پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے
وہ آدمی نہیں جو آدمی کا ساتھ نہ دے
چراغ وہ ہے اندھیروں کو جو کرے روشن
وہ کیا چراغ ہے جو روشنی کا ساتھ نہ دے
چمن میں اب تو یہ حالت ہے ہم نشینوں کی
کہ جیسے کوئی قفس میں کسی کا ساتھ نہ دے
پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے
وہ آدمی نہیں جو آدمی کا ساتھ نہ دے
چراغ وہ ہے اندھیروں کو جو کرے روشن
وہ کیا چراغ ہے جو روشنی کا ساتھ نہ دے
چمن میں اب تو یہ حالت ہے ہم نشینوں کی
کہ جیسے کوئی قفس میں کسی کا ساتھ نہ دے
ہو جاتے ہیں جب آپ بھی حیران دیکھ کر
ہنستا ہوں اپنا چاک گریبان دیکھ کر
پھولوں کا رنگ و روپ نکھرتا چلا گیا
نازک لبوں پہ آپ کے مسکان دیکھ کر
اک بے وفا کا پیار مجھے یاد آ گیا
دورِ خزاں میں باغ کو ویران دیکھ کر
کبھی تو پیار سے لے گا وہ نام اپنا بھی
قبول ہو گا کسی دن سلام اپنا بھی
کبھی تو ہم بھی رگِ گل سے کاٹ دیں پتھر
جہاں میں کچھ تو ہو مشہور نام اپنا بھی
کوئی تو جھانکے گا میری طرف دریچے سے
کسی نگاہ میں ہو گا مقام اپنا بھی
مرتبے حسن کے کم ہوں یہ ضروری تو نہیں
آپ کی بزم میں ہم ہوں یہ ضروری تو نہیں
وہ تو مقسوم ہی کچھ اور ہوا کرتے ہیں
سب کی تقدیر میں غم ہوں یہ ضروری تو نہیں
یوں بھی دیوانے سرِ راہ بھٹک سکتے ہیں
آپ کی زُلف میں خم ہوں یہ ضروری تو نہیں
سنتا ہے میرے ہم نشیں کہتی ہے یہ بہار کیا
پھولوں سے دوستی نہ کر پھولوں کا اعتبار کیا
بازئ دل کی مات پر بڑھ گئے اور حوصلے
حُسن کی جیت جیت کیا، عشق کی ہار ہار کیا
حُسن پہ ناز کیجئے، آپ مگر نہ بھولیۓ
حُسن تو چڑھتی دھوپ ہے دھوپ کا اعتبار کیا
زندگی بے سر و سامان ہے قصہ کیا ہے
جس کو دیکھو وہ پریشان ہے قصہ کیا ہے
زلف عارض پہ پریشان ہے قصہ کیا ہے
سایۂ کفر میں ایمان ہے قصہ کیا ہے
آج کے دور میں بس چاک گریباں ہونا
تیرے دیوانوں کی پہچان ہے قصہ کیا ہے
پاس بیٹھے رہو کچھ دیر بہل جانے دو
دل دیوانہ مچلتا ہے، مچل جانے دو
ڈال دو تم مری آنکھوں میں شرابی آنکھیں
میری حسرت مرے ارمان نکل جانے دو
تم تو اپنے رخ روشن سے ہٹا دو آنچل
چاندنی رات جو ڈھلتی ہے تو ڈھل جانے دو