Showing posts with label انور شادانی. Show all posts
Showing posts with label انور شادانی. Show all posts

Monday, 25 April 2022

پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے

 پڑے جو کام تو دل سے کسی کا ساتھ نہ دے

وہ آدمی نہیں جو آدمی کا ساتھ نہ دے

چراغ وہ ہے اندھیروں کو جو کرے روشن

وہ کیا چراغ ہے جو روشنی کا ساتھ نہ دے

چمن میں اب تو یہ حالت ہے ہم نشینوں کی

کہ جیسے کوئی قفس میں کسی کا ساتھ نہ دے

Friday, 25 February 2022

ہو جاتے ہیں جب آپ بھی حیران دیکھ کر

 ہو جاتے ہیں جب آپ بھی حیران دیکھ کر

ہنستا ہوں اپنا چاک گریبان دیکھ کر

پھولوں کا رنگ و روپ نکھرتا چلا گیا

نازک لبوں پہ آپ کے مسکان دیکھ کر

اک بے وفا کا پیار مجھے یاد آ گیا

دورِ خزاں میں باغ کو ویران دیکھ کر

Wednesday, 26 January 2022

کبھی تو پیار سے لے گا وہ نام اپنا بھی

 کبھی تو پیار سے لے گا وہ نام اپنا بھی

قبول ہو گا کسی دن سلام اپنا بھی

کبھی تو ہم بھی رگِ گل سے کاٹ دیں پتھر

جہاں میں کچھ تو ہو مشہور نام اپنا بھی

کوئی تو جھانکے گا میری طرف دریچے سے

کسی نگاہ میں ہو گا مقام اپنا بھی

Friday, 24 December 2021

مرتبے حسن کے کم ہوں یہ ضروری تو نہیں

 مرتبے حسن کے کم ہوں یہ ضروری تو نہیں

آپ کی بزم میں ہم ہوں یہ ضروری تو نہیں

وہ تو مقسوم ہی کچھ اور ہوا کرتے ہیں

سب کی تقدیر میں غم ہوں یہ ضروری تو نہیں

یوں بھی دیوانے سرِ راہ بھٹک سکتے ہیں

آپ کی زُلف میں خم ہوں یہ ضروری تو نہیں

Thursday, 23 December 2021

سنتا ہے میرے ہمنشیں کہتی ہے یہ بہار کیا

 سنتا ہے میرے ہم نشیں کہتی ہے یہ بہار کیا

پھولوں سے دوستی نہ کر پھولوں کا اعتبار کیا

بازئ دل کی مات پر بڑھ گئے اور حوصلے

حُسن کی جیت جیت کیا، عشق کی ہار ہار کیا

حُسن پہ ناز کیجئے، آپ مگر نہ بھولیۓ

حُسن تو چڑھتی دھوپ ہے دھوپ کا اعتبار کیا

Wednesday, 22 December 2021

زندگی بے سر و سامان ہے قصہ کیا ہے

 زندگی بے سر و سامان ہے قصہ کیا ہے

جس کو دیکھو وہ پریشان ہے قصہ کیا ہے

زلف عارض پہ پریشان ہے قصہ کیا ہے

سایۂ کفر میں ایمان ہے قصہ کیا ہے

آج کے دور میں بس چاک گریباں ہونا

تیرے دیوانوں کی پہچان ہے قصہ کیا ہے

Monday, 16 November 2020

پاس بیٹھے رہو کچھ دیر بہل جانے دو

 پاس بیٹھے رہو کچھ دیر بہل جانے دو

دل دیوانہ مچلتا ہے، مچل جانے دو

ڈال دو تم مری آنکھوں میں شرابی آنکھیں

میری حسرت مرے ارمان نکل جانے دو

تم تو اپنے رخ روشن سے ہٹا دو آنچل

چاندنی رات جو ڈھلتی ہے تو ڈھل جانے دو