اپنے کمرے میں پِچھلے
چار گھنٹے سیدھے لیٹے
پنکھے کو تکتے گزر چکے ہیں
دماغ الٹے سیدھے خیالوں کی
جنگ سے لڑ رہا ہے
پنکھا مئی میں بھی
اپنے کمرے میں پِچھلے
چار گھنٹے سیدھے لیٹے
پنکھے کو تکتے گزر چکے ہیں
دماغ الٹے سیدھے خیالوں کی
جنگ سے لڑ رہا ہے
پنکھا مئی میں بھی
رقصِ دُکھ
ایک ناقابلِ برداشت دُکھ
درد سے اٹھتی ہوئی
چِیخ کے سُر پر
مُسلسل رقص کر رہا ہے
مُمکن ہے چکرانے پر
زندگی موت سے بھاری ہے
اک بے نام درد آنکھوں کے نیچے
گہرے سیاہ نیل چھوڑ چکا ہے
زندگی ریشم کے دھاگوں کے گچھے کی مانند
الجھی ہوئی ہے، سلجھ نہیں رہی
نا ہی اتنی ہمت ہے کہ سلجھائی جا سکے
پچھلے ایک گھنٹے سے
اس کی کنورژن کھولے دیکھ رہی ہوں
ان ساٹھ منٹوں میں ایک منٹ کے لیے بھی
اس کا آن لائن شو نہیں ہوا ہے
اور تقریباً ۱۴ بار میں
اس کا نام میسیج میں لکھ کر مٹا چکی ہوں
کچھ آوازیں
سکون بخش ہوتی ہیں
جیسے
اس کی کلائیوں میں
کانچ کی چوڑیوں کی کھنک
اس کے پیروں کی
اس سے بڑھ کر لاچارگی کیا ہو گی
وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی
بِنا اپنے چھوٹے ہونے کی پرواہ کیے
روزانہ گھر سے کام کو نِکلے
رات گئے دیر سے لوٹے
اور معصوم ننھے ہاتھ
میں نے دکھوں کو
کئی رنگوں سے سجایا
آڑھی ترچھی لکیروں سے
کئی درد کھینچے
جانے کس کس کی کہانی کو
کینوس پر اتارا
اور اب میرے پاس
دکھ کی اتنی تصویریں ہیں
اک تیرے اداس ہونے سے
بارش کا شیدائی
کمرے کے کونے میں لگا بیٹھا ہے
اک تیرے اداس ہونے سے
کائنات یوں بے رنگ لگ رہی ہے
جیسے اندھے کو کچھ دکھائی نہ دے
اک تیرے اداس ہونے سے