Showing posts with label عنیزہ غفور. Show all posts
Showing posts with label عنیزہ غفور. Show all posts

Monday, 25 September 2023

امید کہاں ہو تم امید سن رہی ہو

 اپنے کمرے میں پِچھلے 

چار گھنٹے سیدھے لیٹے

پنکھے کو تکتے گزر چکے ہیں

دماغ الٹے سیدھے خیالوں کی

جنگ سے لڑ رہا ہے 

پنکھا مئی میں بھی 

Tuesday, 1 August 2023

رقص دکھ ایک ناقابل برداشت دکھ

 رقصِ دُکھ


ایک ناقابلِ برداشت دُکھ

درد سے اٹھتی ہوئی

چِیخ کے سُر پر 

مُسلسل رقص کر رہا ہے

مُمکن ہے چکرانے پر 

Wednesday, 28 June 2023

زندگی موت سے بھاری ہے

 زندگی موت سے بھاری ہے 

اک بے نام درد آنکھوں کے نیچے

گہرے سیاہ نیل چھوڑ چکا ہے

زندگی ریشم کے دھاگوں کے گچھے کی مانند

الجھی ہوئی ہے، سلجھ نہیں رہی

نا ہی اتنی ہمت ہے کہ سلجھائی جا سکے

Sunday, 28 May 2023

بے بسی کی اس انتہا

 پچھلے ایک گھنٹے سے

اس کی کنورژن کھولے دیکھ رہی ہوں

ان ساٹھ منٹوں میں ایک منٹ کے لیے بھی

اس کا آن لائن شو نہیں ہوا ہے

اور تقریباً ۱۴ بار میں

اس کا نام میسیج میں لکھ کر مٹا چکی ہوں

Sunday, 9 April 2023

کچھ آوازیں سکون بخش ہوتی ہیں

 کچھ آوازیں 

سکون بخش ہوتی ہیں

جیسے

اس کی کلائیوں میں

کانچ کی چوڑیوں کی کھنک

اس کے پیروں کی 

Friday, 7 April 2023

اس سے بڑھ کر لاچارگی کیا ہو گی

 اس سے بڑھ کر لاچارگی کیا ہو گی

وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی

بِنا اپنے چھوٹے ہونے کی پرواہ کیے

روزانہ گھر سے کام کو نِکلے

رات گئے دیر سے لوٹے 

اور معصوم ننھے ہاتھ

Wednesday, 5 April 2023

آڑھی ترچھی لکیروں سے کئی درد کھینچے

 میں نے دکھوں کو

کئی رنگوں سے سجایا

آڑھی ترچھی لکیروں سے 

کئی درد کھینچے 

جانے کس کس کی کہانی کو

کینوس پر اتارا 

اور اب میرے پاس 

دکھ کی اتنی تصویریں ہیں

Tuesday, 4 April 2023

اک تیرے اداس ہونے سے بارش کا شیدائی

 اک تیرے اداس ہونے سے

بارش کا شیدائی 

کمرے کے کونے میں لگا بیٹھا ہے

اک تیرے اداس ہونے سے 

کائنات یوں بے رنگ لگ رہی ہے

جیسے اندھے کو کچھ دکھائی نہ دے

اک تیرے اداس ہونے سے