Showing posts with label فرحت شکور. Show all posts
Showing posts with label فرحت شکور. Show all posts

Friday, 15 April 2022

اے کاش کوئی دیکھے دل و جاں کی بے بسی

 اے کاش کوئی دیکھے دل و جاں کی بے بسی

ہائے ہمارے عہد کے انساں کی بے بسی

لفظوں میں کیا لکھوں دلِ نالاں کی بے بسی

کس کو بتاؤں ذہنِ پریشاں کی بے بسی

دامن دریدہ چاک گریباں کی بے بسی

دیکھے گا کون شہرِ غریباں کی بے بسی

Saturday, 1 January 2022

سوال ہے نہ ہی کوئی جواب آنکھوں میں

 سوال ہے نہ ہی کوئی جواب آنکھوں میں

ٹھہر گیا ہے کوئی اضطراب آنکھوں میں

نہ رتجگے ہیں نہ نیندیں نہ خواب ہے کوئی

اتر رہا ہے یہ کیسا عذاب آنکھوں میں

بھلا میں تشنہ لبی کا گِلہ کروں کیسے

کہ اب تو رہنے لگا ہے سیلاب آنکھوں میں

Monday, 29 November 2021

کوئی شکوہ نہیں ہے ہم کو اپنی بے نوائی سے

 کوئی شکوہ نہیں ہے ہم کو اپنی بے نوائی سے

ملے ہیں حوصلے کیا کیا تمہاری بے وفائی سے

ہزاروں رہزنوں سے بچ کے جو پہنچے تھے منزل پر

انہیں یاروں نے لُوٹا ہے فریبِ پارسائی سے

عِوض پھولوں کے ہم نے تو ہمیشہ زخم کھائے ہیں

یہی شیوہ ہے اپنا تو بھلائی کر، برائی سے

Sunday, 28 November 2021

میں ذکرِ شہِ انبیاء کر رہی ہوں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


میں ذکرِ شہہِ انبیاؐء کر رہی ہوں

ثنائے حبیبِ خداؐ کر رہی ہوں

میں پھیلا کے دامن دعا کر رہی ہوں

درِ مصطفیٰﷺ پر صدا کر رہی ہوں

مجھے بخش دے زیست کے امتحاں سے

میں رو رو کے یہ التجا کررہی ہوں

Monday, 19 July 2021

کوئی ہمسفر کسی کا کوئی ہمنوا نہ تھا

 کوئی ہم سفر کسی کا کوئی ہم نوا نہ تھا

اُس شہرِ سنگ زاد میں کوئی آشنا نہ تھا

سارا ہی شہرِ سنگدل تھا محرومِ عاجزی

کوئی حرفِ التجا کوئی دستِ دُعا نہ تھا

مجھ کو دیارِ جاناں میں کوفے کا گماں گزرا

حالانکہ کوئی سانحۂ کربلا نہ تھا

Wednesday, 21 April 2021

مجھ سے ستم کشی کا ہنر چھین رہا ہے

 مجھ سے ستم کشی کا ہنر چھین رہا ہے

یہ کون مجھ سے میرا صبر چھین رہا ہے

یہ کس سے میری اتنی عداوت ہے یا خدا

جو میری دعاؤں کا اثر چھین رہا ہے

یہ کون میری بات کا مفہوم بدل کر

لفظوں سے میرے زیر و زبر چھین رہا ہے