اے کاش کوئی دیکھے دل و جاں کی بے بسی
ہائے ہمارے عہد کے انساں کی بے بسی
لفظوں میں کیا لکھوں دلِ نالاں کی بے بسی
کس کو بتاؤں ذہنِ پریشاں کی بے بسی
دامن دریدہ چاک گریباں کی بے بسی
دیکھے گا کون شہرِ غریباں کی بے بسی
اے کاش کوئی دیکھے دل و جاں کی بے بسی
ہائے ہمارے عہد کے انساں کی بے بسی
لفظوں میں کیا لکھوں دلِ نالاں کی بے بسی
کس کو بتاؤں ذہنِ پریشاں کی بے بسی
دامن دریدہ چاک گریباں کی بے بسی
دیکھے گا کون شہرِ غریباں کی بے بسی
سوال ہے نہ ہی کوئی جواب آنکھوں میں
ٹھہر گیا ہے کوئی اضطراب آنکھوں میں
نہ رتجگے ہیں نہ نیندیں نہ خواب ہے کوئی
اتر رہا ہے یہ کیسا عذاب آنکھوں میں
بھلا میں تشنہ لبی کا گِلہ کروں کیسے
کہ اب تو رہنے لگا ہے سیلاب آنکھوں میں
کوئی شکوہ نہیں ہے ہم کو اپنی بے نوائی سے
ملے ہیں حوصلے کیا کیا تمہاری بے وفائی سے
ہزاروں رہزنوں سے بچ کے جو پہنچے تھے منزل پر
انہیں یاروں نے لُوٹا ہے فریبِ پارسائی سے
عِوض پھولوں کے ہم نے تو ہمیشہ زخم کھائے ہیں
یہی شیوہ ہے اپنا تو بھلائی کر، برائی سے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
میں ذکرِ شہہِ انبیاؐء کر رہی ہوں
ثنائے حبیبِ خداؐ کر رہی ہوں
میں پھیلا کے دامن دعا کر رہی ہوں
درِ مصطفیٰﷺ پر صدا کر رہی ہوں
مجھے بخش دے زیست کے امتحاں سے
میں رو رو کے یہ التجا کررہی ہوں
کوئی ہم سفر کسی کا کوئی ہم نوا نہ تھا
اُس شہرِ سنگ زاد میں کوئی آشنا نہ تھا
سارا ہی شہرِ سنگدل تھا محرومِ عاجزی
کوئی حرفِ التجا کوئی دستِ دُعا نہ تھا
مجھ کو دیارِ جاناں میں کوفے کا گماں گزرا
حالانکہ کوئی سانحۂ کربلا نہ تھا
مجھ سے ستم کشی کا ہنر چھین رہا ہے
یہ کون مجھ سے میرا صبر چھین رہا ہے
یہ کس سے میری اتنی عداوت ہے یا خدا
جو میری دعاؤں کا اثر چھین رہا ہے
یہ کون میری بات کا مفہوم بدل کر
لفظوں سے میرے زیر و زبر چھین رہا ہے