Showing posts with label خلش بجنوری. Show all posts
Showing posts with label خلش بجنوری. Show all posts

Saturday, 19 June 2021

محبت؛ چلو اک لفظ لکھتے ہیں

 محبت


چلو اک لفظ لکھتے ہیں

میں پہلے ’م‘ لکھتا ہوں

تم اس میں ’ح‘ ملا دینا

پھر اس میں ’ب‘ ملائیں گے

اسے ’ت‘ سے سجائیں گے

Saturday, 31 December 2016

یہ بستی میں مچی ہے کھلبلی کیا

یہ بستی میں مچی ہے کھلبلی کیا
زمیں سے چھت کسی کی آ لگی کیا
دِیا طوفان میں بھی جل رہا ہے
ہوا سے ہو گئی ہے دوستی کیا
چرا تو لوں تِری خوشبو ہوا سے
رہے گی لیکن اس میں تازگی کیا

خرابوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں

خرابوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں
دلوں میں بھی فطر رکھے ہوئے ہیں
برابر رابطے ہیں دونوں جانب
اُدھر وہ، اِدھر ہم رکھے ہوئے ہیں
عدو ہم پر نظر رکھے ہوئے ہیں
عدو پر ہم نظر رکھے ہوئے ہیں

Saturday, 8 October 2016

تمہارے بعد مجھ کو زندگی برباد کر دے گی

تمہارے بعد مجھ کو زندگی برباد کر دے گی
گزر جاۓ گی جتنی ہے مگر ناشاد کر دے گی
یہ دنیا چین سے مجھ کو بھلا رہنے کہاں دے گی
ستم کوئی نہ کوئی اک نیا ایجاد کر دے گی 
یہ کرنا بات دیواروں سے تنہائی میں چھپ چھپ کر
مِری عادت ہے، یہ عادت مجھے برباد کر دے گی

Friday, 7 October 2016

زمین کی سمت سفر پر نکل بھی سکتا ہے

زمین کی سمت سفر پر نکل بھی سکتا ہے
پہاڑ برف کا پگھلے تو چل بھی سکتا ہے
اسے یقین دلانے سے کچھ نہیں ہو گا
سفر سے پہلے ارادہ بدل بھی سکتا ہے 
ابھی تو وقت کا پنچھی ہے قید میں اپنی 
تڑپ کے ہاتھ سے اپنے نکل بھی سکتا ہے