Showing posts with label کوثر مظہری. Show all posts
Showing posts with label کوثر مظہری. Show all posts

Sunday, 17 March 2024

یہ چہرہ ہے گل ہے یہ گلشن ہے کیا ہے

یہ چہرہ ہے گل ہے یہ گلشن ہے کیا ہے

 سویرا ہے شبنم ہے درپن ہے کیا ہے

یہ شرم اور تبسم یہ آنکھوں میں کاجل

ادا ہے کلی ہے کہ بچپن ہے کیا ہے

نظر جھک رہی ہے خموشی ہے لب پر

حیا ہے ادا ہے کہ ان بن ہے کیا ہے

Tuesday, 16 November 2021

منظر چشم جو پر آب ہوا جاتا ہے

 منظرِ چشم جو پُر آب ہوا جاتا ہے

چمنِ دل مِرا شاداب ہوا جاتا ہے

وہی قطرہ جو کبھی کنج سر چشم میں تھا

اب جو پھیلا ہے تو سیلاب ہوا جاتا ہے

ایک احساس تھا جو غم سے دبا رہتا تھا

ساز غم کا وہی مضراب ہوا جاتا ہے

Friday, 5 November 2021

جانے کس خواب پریشاں کا ہے چکر سارا

 جانے کس خواب پریشاں کا ہے چکر سارا

بکھرا بکھرا ہوا رہتا ہے مِرا گھر سارا

مطمئن ہم تھے بہت جیت ہماری ہو گی

کیسے پھر آ گیا نرغے میں یہ لشکر سارا

بادۂ غم سے ہے سرشار مِرا باطن بھی

اور اسی غم سے اجالا ہے یہ باہر سارا

Wednesday, 3 November 2021

یہ تو اچھا ہے کہ دکھ درد سنانے لگ جاؤ

 یہ تو اچھا ہے کہ دکھ درد سنانے لگ جاؤ

ہر کسی کو نہ مگر زخم دکھانے لگ جاؤ

نیل کے پانیو! رستے میں نہ حائل ہونا

کیا پتہ ضرب کلیمیؑ سے ٹھکانے لگ جاؤ

کتنی مشکل سے تو آئے ہو ذرا ٹھہرو بھی

سہل انداز میں اس طرح نہ جانے لگ جاؤ

Tuesday, 2 November 2021

اک عجب آگ سی ہے سینے میں

 وہ ایک آگ



اک عجب آگ سی ہے سینے میں

جیسے ہو سینۂ شمشیر کی آگ

اک عجب آگ سی ہے باطن میں

جیسے ہو نالۂ شبگیر کی آگ

جیسے اک شعلۂ جوالہ فلک کو چھو لے

سینۂ سرد میں میرے ہے وہی آگ ابھی

Monday, 1 November 2021

لکیروں کو مٹانا چاہتا ہوں

 لکیروں کو مٹانا چاہتا ہوں

مقدر ہی گنوانا چاہتا ہوں

تعاقب میں ہے میرے یاد کس کی

میں کس کو بُھول جانا چاہتا ہوں

گرا تھا بوجھ کوئی سر سے میرے

اسی کو پھر اُٹھانا چاہتا ہوں

Sunday, 31 October 2021

رات سے رات نے کل رات کہا

 رات سے رات نے کل رات کہا؛

کوئی ترکیب تو کرنی ہو گی‘‘

لوگ سورج کو بلا لیں کہیں

لوگ پھر تان کے سینہ نہ کہیں مدِ مقابل آ جائیں

’’ہم سے ڈرنا نہ کہیں چھوڑ دیں سب

رات نے قدرے توقف کر کے

Friday, 9 April 2021

پر مرے عشق کے لگ جائیں دیوانہ ہو جاؤں

 پر مِرے عشق کے لگ جائیں دیوانہ ہو جاؤں

میں نے سوچا تھا کہ اک دم سے فسانہ ہو جاؤں

آپ کہیے تو چلوں دشت کی صحرا کی طرف

اور اگر کہیے تو دریا کو روانہ ہو جاؤں

کیوں بھلا اس کو سر شام یہ زحمت دی جائے

کیوں نہ میں خود ہی ذرا چل کے نشانہ ہو جاؤں