یہ چہرہ ہے گل ہے یہ گلشن ہے کیا ہے
سویرا ہے شبنم ہے درپن ہے کیا ہے
یہ شرم اور تبسم یہ آنکھوں میں کاجل
ادا ہے کلی ہے کہ بچپن ہے کیا ہے
نظر جھک رہی ہے خموشی ہے لب پر
حیا ہے ادا ہے کہ ان بن ہے کیا ہے
یہ چہرہ ہے گل ہے یہ گلشن ہے کیا ہے
سویرا ہے شبنم ہے درپن ہے کیا ہے
یہ شرم اور تبسم یہ آنکھوں میں کاجل
ادا ہے کلی ہے کہ بچپن ہے کیا ہے
نظر جھک رہی ہے خموشی ہے لب پر
حیا ہے ادا ہے کہ ان بن ہے کیا ہے
منظرِ چشم جو پُر آب ہوا جاتا ہے
چمنِ دل مِرا شاداب ہوا جاتا ہے
وہی قطرہ جو کبھی کنج سر چشم میں تھا
اب جو پھیلا ہے تو سیلاب ہوا جاتا ہے
ایک احساس تھا جو غم سے دبا رہتا تھا
ساز غم کا وہی مضراب ہوا جاتا ہے
جانے کس خواب پریشاں کا ہے چکر سارا
بکھرا بکھرا ہوا رہتا ہے مِرا گھر سارا
مطمئن ہم تھے بہت جیت ہماری ہو گی
کیسے پھر آ گیا نرغے میں یہ لشکر سارا
بادۂ غم سے ہے سرشار مِرا باطن بھی
اور اسی غم سے اجالا ہے یہ باہر سارا
یہ تو اچھا ہے کہ دکھ درد سنانے لگ جاؤ
ہر کسی کو نہ مگر زخم دکھانے لگ جاؤ
نیل کے پانیو! رستے میں نہ حائل ہونا
کیا پتہ ضرب کلیمیؑ سے ٹھکانے لگ جاؤ
کتنی مشکل سے تو آئے ہو ذرا ٹھہرو بھی
سہل انداز میں اس طرح نہ جانے لگ جاؤ
وہ ایک آگ
اک عجب آگ سی ہے سینے میں
جیسے ہو سینۂ شمشیر کی آگ
اک عجب آگ سی ہے باطن میں
جیسے ہو نالۂ شبگیر کی آگ
جیسے اک شعلۂ جوالہ فلک کو چھو لے
سینۂ سرد میں میرے ہے وہی آگ ابھی
لکیروں کو مٹانا چاہتا ہوں
مقدر ہی گنوانا چاہتا ہوں
تعاقب میں ہے میرے یاد کس کی
میں کس کو بُھول جانا چاہتا ہوں
گرا تھا بوجھ کوئی سر سے میرے
اسی کو پھر اُٹھانا چاہتا ہوں
رات سے رات نے کل رات کہا؛
کوئی ترکیب تو کرنی ہو گی‘‘
لوگ سورج کو بلا لیں کہیں
لوگ پھر تان کے سینہ نہ کہیں مدِ مقابل آ جائیں
’’ہم سے ڈرنا نہ کہیں چھوڑ دیں سب
رات نے قدرے توقف کر کے
پر مِرے عشق کے لگ جائیں دیوانہ ہو جاؤں
میں نے سوچا تھا کہ اک دم سے فسانہ ہو جاؤں
آپ کہیے تو چلوں دشت کی صحرا کی طرف
اور اگر کہیے تو دریا کو روانہ ہو جاؤں
کیوں بھلا اس کو سر شام یہ زحمت دی جائے
کیوں نہ میں خود ہی ذرا چل کے نشانہ ہو جاؤں