Sunday, 1 November 2026

قید میں گزرے گی جو عمر بڑے کام کی تھی

 قید میں گُزرے گی جو عُمر بڑے کام کی تھی

پر میں کیا کرتی کہ زنجیر تِرے نام کی تھی

جس کے ماتھے پہ مِرے بخت کا تارہ چمکا

چاند کے ڈُوبنے کی بات اُسی شام کی تھی

میں نے ہاتھوں کو ہی پتوار بنایا، ورنہ

ایک ٹُوٹی ہُوئی کشتی مِرے کِس کام کی تھی

وہ کہانی کہ ابھی سُوئیاں نکلی نہ تھیں

فکر ہر شخص کو شہزادی کے انجام کی تھی

یہ ہوا کیسے اُڑا لے گئی آنچل میرا؟

یُوں ستانے کی تو عادت مِرے گھنشام کی تھی

بوجھ اُٹھائے ہُوئے پِھرتی ہے ہمارا اب تک

اے زمیں ماں! تِری یہ عُمر تو آرام کی تھی


پروین شاکر

No comments:

Post a Comment