شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو
آگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہو
شوق کو اپنے ذرا تیز قدم ہی رکھنا
تھامنے ہاتھ کبھی باد رواں ہو کہ نہ ہو
سیل کے غیظ سے لرزاں ہے تصور کا بدن
بہتے پانی کے تکلم سے گماں ہو کہ نہ ہو
شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو
آگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہو
شوق کو اپنے ذرا تیز قدم ہی رکھنا
تھامنے ہاتھ کبھی باد رواں ہو کہ نہ ہو
سیل کے غیظ سے لرزاں ہے تصور کا بدن
بہتے پانی کے تکلم سے گماں ہو کہ نہ ہو
آج پھر مجھ سے
آج پھر مجھ سے
مِرا کمرہ مخاطب ہے
دراڑیں وہ کبھی
چھت کی دکھاتا ہے
کبھی دیوار میں پڑتے شگافوں کو
آرزو آباد ہے بکھرے کھنڈر کے آس پاس
درد کی دہلیز پر گردِ سفر کے آس پاس
خار کی ہر نوک کو مجروح کر دینے کے بعد
لوٹ جانا ہے مجھے برگ و ثمر کے آس پاس
دیدنی ہیں چاہتوں کی نرم و نازک لغزشیں
گردشِ ایام میں شام و سحر کے آس پاس
جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کی
بہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کی
حیات پا نہ سکے گی حسین سی خواہش
سماعتوں میں ہے جب تک صدا اداسی کی
فلک کے چاند ستاروں میں روشنی کم ہے
مجھے تو لگتی ہے اس میں خطا اداسی کی
دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرح
ارماں سجا تھا میر کے دیوان کی طرح
وسعت زمیں کی کھو گئی بستی کی بھیڑ میں
گلیوں میں شور بس گیا میدان کی طرح
سر پر فلک کو اوڑھے بچھائے زمین وہ
بیٹھا ہے شان سے کسی سلطان کی طرح
چھوٹی سی کھڑکی
مختصر کمرے کی
ایک چھوٹی سی مغموم کھڑکی
کبھی دیکھتی ہے جو باہر کی دنیا
اداسی بہت بڑھ جاتی ہے اس کی
مگر سامنے کے ہرے لان کے پھول