Showing posts with label جعفر ساہنی. Show all posts
Showing posts with label جعفر ساہنی. Show all posts

Tuesday, 15 March 2022

شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو

 شر کی باتوں میں تمازت کا نشاں ہو کہ نہ ہو 

آگ لگتی ہے تو سینے میں دھواں ہو کہ نہ ہو 

شوق کو اپنے ذرا تیز قدم ہی رکھنا 

تھامنے ہاتھ کبھی باد رواں ہو کہ نہ ہو 

سیل کے غیظ سے لرزاں ہے تصور کا بدن 

بہتے پانی کے تکلم سے گماں ہو کہ نہ ہو 

Sunday, 7 November 2021

آج پھر مجھ سے مرا کمرہ مخاطب ہے

 آج پھر مجھ سے


آج پھر مجھ سے

مِرا کمرہ مخاطب ہے

دراڑیں وہ کبھی

چھت کی دکھاتا ہے

کبھی دیوار میں پڑتے شگافوں کو

Wednesday, 3 November 2021

آرزو آباد ہے بکھرے کھنڈر کے آس پاس

 آرزو آباد ہے بکھرے کھنڈر کے آس پاس

درد کی دہلیز پر گردِ سفر کے آس پاس

خار کی ہر نوک کو مجروح کر دینے کے بعد

لوٹ جانا ہے مجھے برگ و ثمر کے آس پاس

دیدنی ہیں چاہتوں کی نرم و نازک لغزشیں

گردشِ ایام میں شام و سحر کے آس پاس

Sunday, 31 October 2021

جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کی

 جبیں پہ شہر کی لکھ کر فضا اداسی کی

بہت ہے خوش کوئی دے کر دعا اداسی کی

حیات پا نہ سکے گی حسین سی خواہش

سماعتوں میں ہے جب تک صدا اداسی کی

فلک کے چاند ستاروں میں روشنی کم ہے

مجھے تو لگتی ہے اس میں خطا اداسی کی

Friday, 16 July 2021

دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرح

 دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرح

ارماں سجا تھا میر کے دیوان کی طرح

وسعت زمیں کی کھو گئی بستی کی بھیڑ میں

گلیوں میں شور بس گیا میدان کی طرح

سر پر فلک کو اوڑھے بچھائے زمین وہ

بیٹھا ہے شان سے کسی سلطان کی طرح

Thursday, 10 December 2020

ایک چھوٹی سی مغموم کھڑکی

 چھوٹی سی کھڑکی

مختصر کمرے کی

ایک چھوٹی سی مغموم کھڑکی

کبھی دیکھتی ہے جو باہر کی دنیا

اداسی بہت بڑھ جاتی ہے اس کی

مگر سامنے کے ہرے لان کے پھول