Friday, 16 July 2021

دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرح

 دل میں خیال عشق تھا مہمان کی طرح

ارماں سجا تھا میر کے دیوان کی طرح

وسعت زمیں کی کھو گئی بستی کی بھیڑ میں

گلیوں میں شور بس گیا میدان کی طرح

سر پر فلک کو اوڑھے بچھائے زمین وہ

بیٹھا ہے شان سے کسی سلطان کی طرح

غافل مَرے وجود سے سایہ مِرا رہا

تھا ہمسفر وہ شہر میں انجان کی طرح

رکھتا ہوں میں عزیز روایت کا سلسلہ

گرتے مِرے مکان کے دالان کی طرح

یہ منفعل سی زندگی مجھ کو نہیں قبول

عہدِ جنوں کے چاک گریبان کی طرح

تیور سے اس کے آگ تمنا میں لگ گئی

جلنے لگا ہے دل مِرا شمشان کی طرح

تیرے بغیر ساہنی تاروں کے درمیاں

محفل اداس تھی رہِ ویران کی طرح


جعفر ساہنی

No comments:

Post a Comment