آتما کے پتر پرماتما کے نام
جیسے ساون کی رم جھم کے پیچھے
بھادوں کے سانپوں کا ڈیرہ ہوتا ہے
جیسے کنوار کے سناٹے کے پیچھے
کارتک کے چندا کا لہرا ہوتا ہے
جیسے اگہن کی سردی کے پیچھے
پوس کا ڈسنے والا کہرہ ہوتا ہے
جیسے ماگھ کی مدماہٹ کے پیچھے
پھاگن کی ہولی کا پھیرا ہوتا ہے
جیسے ہر دو آنکھوں کے پیچھے
اک سپنا ہوتا ہے
ویسے ہی ہر موسم میں
وہ تیرے موسم ہوں یا میرے موسم
اے نظم اے میری ازلی محبوبہ میں ہوتا ہوں
صلاح الدین پرویز
No comments:
Post a Comment