Friday, 16 July 2021

جیسے ساون کی رم جھم کے پیچھے

 آتما کے پتر پرماتما کے نام


جیسے ساون کی رم جھم کے پیچھے

بھادوں کے سانپوں کا ڈیرہ ہوتا ہے

جیسے کنوار کے سناٹے کے پیچھے

کارتک کے چندا کا لہرا ہوتا ہے

جیسے اگہن کی سردی کے پیچھے

پوس کا ڈسنے والا کہرہ ہوتا ہے

جیسے ماگھ کی مدماہٹ کے پیچھے

پھاگن کی ہولی کا پھیرا ہوتا ہے

جیسے ہر دو آنکھوں کے پیچھے

اک سپنا ہوتا ہے

ویسے ہی ہر موسم میں 

وہ تیرے موسم ہوں یا میرے موسم 

اے نظم اے میری ازلی محبوبہ میں ہوتا ہوں


صلاح الدین پرویز

No comments:

Post a Comment