Showing posts with label امید فاضلی. Show all posts
Showing posts with label امید فاضلی. Show all posts

Wednesday, 20 September 2023

کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کی

 کسی سے اور تو کیا گفتگو کریں دل کی 

کہ رات سن نہ سکے ہم بھی دھڑکنیں دل کی 

مگر یہ بات خرد کی سمجھ میں آ نہ سکی 

وصال و ہجر سے آگے ہیں منزلیں دل کی 

جلو میں خواب نما رت جگے سجائے ہوئے 

کہاں کہاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں دل کی 

Saturday, 2 December 2017

ہوا کچھ ایسی چلی تھی بکھر گئے ہوتے

ہوا کچھ ایسی چلی تھی، بکھر گئے ہوتے
رگوں میں خوں جو ہوتا تو مر گئے ہوتے
یہ سرد رات، یہ آوارگی، یہ نیند کا بوجھ
ہم اپنے شہر میں ہوتے تو گھر گئے ہوتے
نئے شعور کو جن کا شکار ہونا ہے
وہ حادثے بھی ہمیں پر گزر گئے ہوتے

ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیں

ہائے اک شخص جسے ہم نے بھلایا بھی نہیں 
یاد آنے کی طرح یاد وہ آیا بھی نہیں 
جانے کس موڑ پہ لے آئی ہمیں تیری طلب 
سر پہ سورج بھی نہیں راہ میں سایا بھی نہیں 
وجہ رسوائی احساس ہوا ہے کیا کیا 
ہائے وہ لفظ جو لب تک مِرے آیا بھی نہیں 

Monday, 5 December 2016

اک ایسا مرحلۂ رہ گزر بھی آتا ہے

اک ایسا مرحلۂ رہگزر بھی آتا ہے
کوئی فصیلِ انا سے اتر بھی آتا ہے
تِری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں
سفر میں دشت بھی آتا ہے گھر بھی آتا ہے
تلاش سائے کی لائی جو دشت سے تو کھلا
عذاب صورتِ دیوار و در بھی آتا ہے

ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ رشتہ بھی تھا

ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ رشتہ بھی تھا
اے محبت! میں کبھی یکجا بھی تھا
مجھ میں اک موسم کبھی ایسا نہ تھا
ایسا موسم جس میں تُو مہکا بھی تھا
کج کلاہوں پر کہاں ممکن ستم
ہاں مگر اس نے مجھے چاہا بھی تھا

Wednesday, 30 November 2016

ان کی مدحت کو قلم تحریر کر سکتا نہیں

نعتِ رسول مقبولﷺ

ان کی مدحت کو قلم تحریر کر سکتا نہیں
حرفِ موجِ نور کو زنجیر کر سکتا نہیں
جس کا مسلک پیرویٔ اسوۂ سرکارؐ ہے
کوئی اس انسان کو تسخیر کر سکتا نہیں
ذہن و دل کا مرکز و محور نہ ہو جب تک وہ ذات 
کوئی اپنی ذات کی تعمیر کر سکتا نہیں

وہ خواب ہی سہی پیش نظر تو اب بھی ہے

وہ خواب ہی سہی پیشِ نظر تو اب بھی ہے
بچھڑنے والا شریکِ سفر تو اب بھی ہے
زباں بریدہ سہی، میں خزاں گزیدہ سہی 
ہرا بھرا مرا زخمِ ہنر تو اب بھی ہے
لاکھ کڑے وقت نے دیوار ہجر اٹھا دی مگر 
خیال یار میرا ہمسفر تو اب بھی ہے

Thursday, 13 October 2016

جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیا

جانے یہ کیسا زہر دلوں میں اتر گیا
پرچھائیں زندہ رہ گئی، انسان مر گیا
بربادیاں تو میرا مقدر ہی تھیں مگر
چہروں سے دوستی ملمع اتر گیا 
اے دوپہر کی دھوپ! بتا کیا جواب دوں
دیوار پوچھتی ہے کہ سایا کدھر گیا؟

اے دل خود ناشناس ایسا بھی کیا

اے دلِ خود ناشناس ایسا بھی کیا
آئینہ،۔ اور اس قدر تنہا بھی کیا
اس کو دیکھا بھی، مگر دیکھا بھی کیا 
عرصۂ خواہش میں اک لمحہ بھی کیا
درد کا رشتہ بھی ہے تجھ سے بہت 
اور پھر یہ درد کا رشتہ بھی کیا 

Friday, 14 March 2014

کب تلک پیاس کے صحرا میں جھلستے جائیں

کب تلک پیاس کے صحرا میں جُھلستے جائیں
اب یہ بادل جو اٹھے ہیں تو برستے جائیں
کون بتلائے تُمہیں کیسے وہ موسم ہیں کہ جو
مجھ سے ہی دور رہیں، مجھ میں ہی بستے جائیں
ہائے کیا لوگ یہ آباد ہوئے ہیں مجھ میں
پیار کے لفظ لکھیں، لہجے سے ڈستے جائیں

اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے کٹ گیا

اپنی فضا سے اپنے زمانوں سے کٹ گیا
پتھر خدا بنا،۔ تو چٹانوں سے کٹ گیا
پھینکا تھکن نے جال تو کیونکر کٹے گی رات
دن تو بلندیوں میں اڑانوں سے کٹ گیا
وہ سر کہ جس میں عشق کا سودا تھا کل تلک
اب سوچتا ہوں کیا مِرے شانوں سے کٹ گیا

سنگ جب آئینہ دکھاتا ہے

سنگ جب آئینہ دکھاتا ہے
تیشہ کیا کیا نظر چراتا ہے
سلسلہ پیاس کا بتاتا ہے
پیاس دریا کہاں بجھاتا ہے
ریگزاروں میں جیسے تپتی دھوپ
یوں بھی اس کا خیال آتا ہے

مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے

مقتلِ جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے
ہم تو خوشبو کی طرح نکلے، جدھر سے نکلے
مقتل جاں سے کہ زنداں سے کہ گھر سے نکلے
ہم تو خوشبو کی طرح نکلے جدھر سے نکلے
گر قیامت یہ نہیں ہے تو قیامت کیا ہے
شہر جلتا رہا اور لوگ نہ گھر سے نکلے