Showing posts with label شکیل جمالی. Show all posts
Showing posts with label شکیل جمالی. Show all posts

Tuesday, 7 November 2023

خلوص و خیر کے جتنے بھی استعارے ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خلوص و خیر کے جتنے بھی استعارے ہیں

وہ سب خدا نے تمہارے لیے اتارے ہیں

وہ چند روز مِری زندگی کا حاصل ہیں

وہ چند روز مدینے میں جو گُزارے ہیں

یہ معجزے، یہ عجائب، یہ کائنات کے بھید

جو اہلِ عقل ہیں ان کے لیے اشارے ہیں

Wednesday, 26 April 2023

کتنے اخبار فروشوں کو صحافی لکھا

 کتنے اخبار فروشوں کو صحافی لکھا

نا مکمل کو بھی خادم نے اضافی لکھا

تُو نے بُھولے سے نہ سمجھی مِرے جذبے کی کسک

میں نے برسوں تِری آنکھوں کو غلافی لکھا

ہاتھ اٹھا سکتے تھے میرے بھی بغاوت کا علم

میں نے ہر ظلم کے خانے میں معافی لکھا

Thursday, 23 March 2023

اب نہ موسم نہ موسموں کے اصول

 اب نہ موسم، نہ موسموں کے اصول

اڑ رہی ہے بھری بہار میں دھول

اب ملیں تو کہاں ملیں اس سے

یار! پھر بند ہو گیا اسکول

میں بہت سے گھروں میں دیکھتا ہوں

نیم کی شاخ پر گلاب کا پھول

Wednesday, 1 March 2023

عدو کی چھوڑیے دلدار کی نہیں سنتا

 عدو کی چھوڑیے دلدار کی نہیں سنتا

دل اپنے یارِ طرحدار کی نہ سنتا

کسی طرح نہیں رکھتا ہماری نبض پہ ہاتھ

عجب طبیب ہے بیمار کی نہیں سنتا

ہر ایک شاخ پہ کھلتے نہیں ہیں درد کے پھول

خدا ہر ایک عزادار کی نہیں سنتا

Sunday, 23 October 2022

کئی دنوں سے مجھے بھی نفی کیا ہوا ہے

 کئی دنوں سے مجھے بھی نفی کیا ہوا ہے

تِرے خیال نے اتنا دکھی کیا ہوا ہے

وہ ایک پل تو تجھے یاد بھی نہیں ہو گا

وہ ایک پل جسے ہم نے صدی کیا ہوا ہے

تِری طرح مِرے اندر بھی دھول اڑ رہی ہے

مِرا لباس ذرا استری کیا ہوا ہے

Monday, 10 October 2022

دنیا سنوارنی ہے کہ عقبیٰ نہیں پتا

 دنیا سنوارنی ہے کہ عقبیٰ، نہیں پتا

عالم کو جاہلوں سے زیادہ نہیں پتا

اس بار بے حسی کا سماں دیکھنے کا ہے

اس بار تو کسی کو کسی کا نہیں پتا

ہم تو تمہارے نام پہ دے دیں گے جان بھی

کیا ہے تمہارے دل میں، تمہارا نہیں پتا

Tuesday, 13 September 2022

بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں

 بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں

کچھ لوگوں کو کُنڈی تالے اچھے لگتے ہیں

عام روش سے ہٹ کر چلنے والے زندہ باد

اُلٹے ہاتھ سے لکھنے والے اچھے لگتے ہیں

کبھی کبھی خاموشی اپنا رنگ جماتی ہے

کبھی کبھی ہونٹوں پر تالے اچھے لگتے ہیں

Saturday, 20 March 2021

جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا

 جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا 

اک طرح سے یہ بھی اچھا ہو گیا 

اس نے اک جادو بھری تقریر کی 

قوم کا نقصان پورا ہو گیا 

شہر میں دو چار کمبل بانٹ کر 

وہ سمجھتا ہے مسیحا ہو گیا

Tuesday, 9 February 2021

سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے

 سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے

پرندہ آشیانہ چاہتا ہے🕊

کوئی سکول کی گھنٹی بجا دے

یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے

یہاں سانسوں کے لالے پڑ رہے ہیں

وہ پاگل زہر کھانا چاہتا ہے

Saturday, 29 August 2020

چاہت کی لو کو مدھم کر دیتا ہے

چاہت کی لَو کو مدھم کر دیتا ہے 
ڈر جاتا ہے، ملنا کم کر دیتا ہے 
جلدی اچھے ہو جانے کا جذبہ بھی 
زخموں کو وقفِ مرہم کر دیتا ہے 
موت تو پھر بھی اپنے وقت پہ آتی ہے 
موت کا آدھا کام تو "غم" کر دیتا ہے 

رشتوں کی دلدل سے کیسے نکلیں گے

رشتوں کی دلدل سے کیسے نکلیں گے
ہر سازش کے پیچھے اپنے نکلیں گے
چاند ستارے گود میں آ کر بیٹھ گئے
سوچا یہ تھا، پہلی بس سے نکلیں گے
سب امیدوں کے پیچھے مایوسی ہے
توڑو، یہ بادام بھی کڑوے نکلیں گے

یہی تو ہے جو خیالوں سے جا نہیں رہا ہے

یہی تو ہے جو خیالوں سے جا نہیں رہا ہے
یہ آدمی جو مِرا فون اٹھا نہیں رہا ہے
ہمارے بیچ کوئی باوفا نہیں رہا ہے
یہ بات کوئی کسی کو بتا نہیں رہا ہے
کسی کا ساتھ میاں جی سدا نہیں رہا ہے
مگر دلوں کو ابھی صبر آ نہیں رہا ہے

Thursday, 27 August 2020

نہ کوئی خواب کمایا نہ آنکھ خالی ہوئی

نہ کوئی خواب کمایا نہ آنکھ خالی ہوئی
تمہارے ساتھ ہماری بھی رات کالی ہوئی
خدا کا شکر ادا کر، وہ بے وفا نکلا
خوشی منا کہ تِری جان کی بحالی ہوئی
ذرا سے خواب بنے تھے کہ سانس پھول گئی
قدم دکاں پہ رکھا تھا کہ جیب خالی ہوئی

کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے

کوئی بھی دار سے زندہ نہیں اترتا ہے
مگر جنون ہمارا نہیں اترتا ہے
تباہ کر دیا احباب کو سیاست نے
مگر مکان سے جھنڈا نہیں اترتا ہے
میں اپنے دل کے اجڑنے کی بات کس سے کہوں
کوئی مزاج پہ پورا نہیں اترتا ہے

جھیل بھی کھو گئی شکارا بھی

جھیل بھی کھو گئی، شکارا بھی
ورنہ، اک خواب تھا ہمارا بھی
میں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں
مجھ پہ کچھ قرض ہے تمہارا بھی
تیرے آنسو بھی سوکھ جائیں گے
زخم بھر جائے گا ہمارا بھی

وفاداروں پہ آفت آ رہی ہے

وفاداروں پہ آفت آ رہی ہے
میاں لے لو جو قیمت آ رہی ہے
میں اس سے اتنے وعدے کر چکا ہوں
مجھے اس بار غیرت آ رہی ہے
نہ جانے مجھ میں کیا دیکھا ہے اس نے
مجھے اس پر محبت آ رہی ہے

Thursday, 6 August 2020

فراز عشق تیری انتہا نہیں ہوئے ہم

فرازِ عشق! تیری انتہا نہیں ہوئے ہم
کسی پہ قرض تھے لیکن ادا نہیں ہوئے ہم
تیری گلی کے سوا اور کیا "ٹھکانا" ہے؟
یہیں ملیں گے، اگر لاپتہ نہیں ہوئے ہم
تمہارے بعد بڑا "فرق" آ گیا ہم میں
تمہارے بعد کسی پر خفا نہیں ہوئے ہم

Monday, 28 March 2016

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے

سب کے ہوتے ہوئے لگتا ہے کہ گھر خالی ہے
یہ تکلف ہے کہ جذبات کی پامالی ہے
آسمانوں سے اترنے کا ارادہ ہو تو سن 
شاخ پر ایک پرندے کی جگہ خالی ہے 
جس کی آنکھوں میں شرارت تھی وہ محبوبہ تھی
یہ جو مجبور سی عورت ہے یہ گھر والی ہے

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا "خسارہ" ہے تو "گھر" جاتے ہیں
موت کو ہم نے کبھی کچھ نہیں سمجھا، مگر آج
اپنے بچوں کی طرف دیکھ کے ڈر جاتے ہیں
زندگی "ایسے" بھی "حالات" بنا دیتی ہے
لوگ سانسوں کا کفن اوڑھ کے مر جاتے ہیں