عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خلوص و خیر کے جتنے بھی استعارے ہیں
وہ سب خدا نے تمہارے لیے اتارے ہیں
وہ چند روز مِری زندگی کا حاصل ہیں
وہ چند روز مدینے میں جو گُزارے ہیں
یہ معجزے، یہ عجائب، یہ کائنات کے بھید
جو اہلِ عقل ہیں ان کے لیے اشارے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خلوص و خیر کے جتنے بھی استعارے ہیں
وہ سب خدا نے تمہارے لیے اتارے ہیں
وہ چند روز مِری زندگی کا حاصل ہیں
وہ چند روز مدینے میں جو گُزارے ہیں
یہ معجزے، یہ عجائب، یہ کائنات کے بھید
جو اہلِ عقل ہیں ان کے لیے اشارے ہیں
کتنے اخبار فروشوں کو صحافی لکھا
نا مکمل کو بھی خادم نے اضافی لکھا
تُو نے بُھولے سے نہ سمجھی مِرے جذبے کی کسک
میں نے برسوں تِری آنکھوں کو غلافی لکھا
ہاتھ اٹھا سکتے تھے میرے بھی بغاوت کا علم
میں نے ہر ظلم کے خانے میں معافی لکھا
اب نہ موسم، نہ موسموں کے اصول
اڑ رہی ہے بھری بہار میں دھول
اب ملیں تو کہاں ملیں اس سے
یار! پھر بند ہو گیا اسکول
میں بہت سے گھروں میں دیکھتا ہوں
نیم کی شاخ پر گلاب کا پھول
عدو کی چھوڑیے دلدار کی نہیں سنتا
دل اپنے یارِ طرحدار کی نہ سنتا
کسی طرح نہیں رکھتا ہماری نبض پہ ہاتھ
عجب طبیب ہے بیمار کی نہیں سنتا
ہر ایک شاخ پہ کھلتے نہیں ہیں درد کے پھول
خدا ہر ایک عزادار کی نہیں سنتا
کئی دنوں سے مجھے بھی نفی کیا ہوا ہے
تِرے خیال نے اتنا دکھی کیا ہوا ہے
وہ ایک پل تو تجھے یاد بھی نہیں ہو گا
وہ ایک پل جسے ہم نے صدی کیا ہوا ہے
تِری طرح مِرے اندر بھی دھول اڑ رہی ہے
مِرا لباس ذرا استری کیا ہوا ہے
دنیا سنوارنی ہے کہ عقبیٰ، نہیں پتا
عالم کو جاہلوں سے زیادہ نہیں پتا
اس بار بے حسی کا سماں دیکھنے کا ہے
اس بار تو کسی کو کسی کا نہیں پتا
ہم تو تمہارے نام پہ دے دیں گے جان بھی
کیا ہے تمہارے دل میں، تمہارا نہیں پتا
بستی چھوڑ کے جانے والے اچھے لگتے ہیں
کچھ لوگوں کو کُنڈی تالے اچھے لگتے ہیں
عام روش سے ہٹ کر چلنے والے زندہ باد
اُلٹے ہاتھ سے لکھنے والے اچھے لگتے ہیں
کبھی کبھی خاموشی اپنا رنگ جماتی ہے
کبھی کبھی ہونٹوں پر تالے اچھے لگتے ہیں
جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا
اک طرح سے یہ بھی اچھا ہو گیا
اس نے اک جادو بھری تقریر کی
قوم کا نقصان پورا ہو گیا
شہر میں دو چار کمبل بانٹ کر
وہ سمجھتا ہے مسیحا ہو گیا
سفر سے لوٹ جانا چاہتا ہے
پرندہ آشیانہ چاہتا ہے🕊
کوئی سکول کی گھنٹی بجا دے
یہ بچہ مسکرانا چاہتا ہے
یہاں سانسوں کے لالے پڑ رہے ہیں
وہ پاگل زہر کھانا چاہتا ہے