Saturday, 20 March 2021

جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا

 جھوٹ سچائی کا حصہ ہو گیا 

اک طرح سے یہ بھی اچھا ہو گیا 

اس نے اک جادو بھری تقریر کی 

قوم کا نقصان پورا ہو گیا 

شہر میں دو چار کمبل بانٹ کر 

وہ سمجھتا ہے مسیحا ہو گیا

یہ تِری آواز نم کیوں ہو گئی

غمزدہ میں تھا تجھے کیا ہو گیا

بے وفائی آ گئی چوپال تک

گاؤں لیکن شہر جیسا ہو گیا

سچ بہت سجتا تھا میری ذات پر

آج یہ کپڑا بھی چھوٹا ہو گیا


شکیل جمالی

No comments:

Post a Comment