عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے
لیکن، کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
لغزش سے ہو نہ جائے سبھی کچھ ہی رائگاں
احباب! احتیاط، یہ میدانِ نعت ہے
اشکوں کے ساتھ جانبِ طیبہ میں چل دیا
زنبیلِ چشم میں یہی سامانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں تو سبھی کے واسطے فیضانِ نعت ہے
لیکن، کسی کسی کو ہی عرفانِ نعت ہے
لغزش سے ہو نہ جائے سبھی کچھ ہی رائگاں
احباب! احتیاط، یہ میدانِ نعت ہے
اشکوں کے ساتھ جانبِ طیبہ میں چل دیا
زنبیلِ چشم میں یہی سامانِ نعت ہے
کہانی کا یہی کردار اب تک بچ نہیں پایا
کہ میرا کوئی بھی غمخوار اب تک بچ نہیں پایا
کوئی بیماری گر ہوتی دوا دارو کیا جاتا
جسے ہو عشق کا آزار، اب تک بچ نہیں پایا
خدارا ضبط کر لو تم کہ نعرہ حق کا جس نے بھی
لگایا بر سرِ بازار، اب تک بچ نہیں پایا
رکھا تھا دشمنوں کو بھی حیرت میں ڈال کے
کچھ فائدے ضرور ہیں مکڑی کے جال کے
حیران ہوں کہ میری طرح کا ہی ایک شخص
لایا ہے آئینہ یہ کہاں سے نکال کے
یہ دشت ہے اور آبلہ پائی بھی شرط ہے
اس جا پہ مختلف ہیں قواعد دھمال کے
قسم خدا کی تجھے بس خدا نہیں سمجھا
وگرنہ اس کے سوا اور کیا نہیں سمجھا؟
عجب ہے تجھ سے بچھڑ کے نکھر گیا ہوں میں
خزاں میں پھول یہ کیسے کِھلا؟ نہیں سمجھا
اسی لیے تو مجھے مشکلوں نے گھیر لیا
جہاں پہ تھا میں وہاں کی ہوا نہیں سمجھا
تمام عمر رہے گا یہ رنج ساتھ مِرے
گھڑا کچا ہے، میں کچا نہیں ہوں
تبھی تو آج تک ڈُوبا نہیں ہوں
گِرا ہوں تو دراڑیں پڑ گئی ہیں
مگر میں ٹُوٹ کے بکھرا نہیں ہوں
کئی دن سے شکم خالی ہے لیکن
نوالے کے لیے جھپٹا نہیں ہوں
تن کا لباس، جیب کے سِکے بدل گئے
سویا رہا میں اور زمانے بدل گئے
شکرِ خدا کہ کوئی تصادم نہیں ہوا
شکرِ خدا کہ ریل کے کانٹے بدل گئے
جس دن سے منتقل ہوا اصلی مکان میں
اس دن سے ہی تمام اثاثے بدل گئے
خوشیوں میں غم کے راگ سنانے لگے مجھے
ہنسنے لگا تو لوگ رُلانے لگے مجھے
کچھ تو کِھلے گا آج سرِ شاخِ آرزو
غنچے چٹخ چٹخ کے بتانے لگے مجھے
اک تجربہ ہوا جو محبت کا، اس کے بعد
جتنی کہانیاں تھیں، فسانے لگے مجھے