Showing posts with label ناہید قمر. Show all posts
Showing posts with label ناہید قمر. Show all posts

Thursday, 13 July 2023

کوئی زندگی تھی گمان سی

 کوئی زندگی تھی گمان سی

کیا کوئی خبر آئے

زندگی کے ترکش میں

جتنے تیر باقی تھے

میری بے دھیانی سے

دل کی خوش گمانی سے

Tuesday, 11 July 2023

پرکاہ سے بد تر ہیں ترے جاہ و حشم

 مرگ بر شاہ


پرکاہ سے بد تر ہیں تِرے جاہ و حشم

شہر پانی پہ کھڑا ہے، سو بہے جاتا ہے

چشمِ خونناب کا گِریہ جو کہیں پر ٹھہرے

دُھوپ دیوار پہ، دیوار زمیں پر ٹھہرے

بابِ احسان کُھلے، بیعتِ رضوان کُھلے

چشمۂ خضر عبث، تختِ سلیماں بے سود

Friday, 7 July 2023

نار کو نور تعصب کو مساوات لکھو

 ہوا جانتی ہے


نار کو نور

تعصب کو مساوات لکھو

عہدِ ابلیس کو آدم کی فتوحات لکھو

خود کشی قتل کو

چیخوں کو مناجات لکھو

لبِ گویا کی جزا سلسلۂ طوق لکھو

Tuesday, 20 June 2023

جس کی طلب میں عمر کا سودا نہیں ہوا

 جس کی طلب میں عمر کا سودا نہیں ہوا

اس خواب کا سراب بھی اپنا نہیں ہوا

اپنی صلیب سر پہ لیے چل رہے ہیں لوگ

شہرِ سزا میں کوئی کسی کا نہیں ہوا

کہنے کو جی سنبھل تو گیا ہے مگر کہیں

اک درد ہے کہ جس کا مداوا نہیں ہوا

Saturday, 17 June 2023

یہ میرے دل کی پگڈنڈی پہ چلتی نظم ہے کوئی

 بُجھارت


یہ میرے دل کی پگڈنڈی پہ چلتی نظم ہے کوئی 

کہ سیل وقت کی بھٹکی ہوئی اک لہر سا لمحہ 

جو آنچل پر ستارے اور ان آنکھوں میں آنسو ٹانک دیتا ہے 

ستاروں کی چمک 

اور آنسوؤں کی جھلملاہٹ میں 

Thursday, 15 June 2023

چھان کر دیکھ لی ریگ دشت زیاں

 عدم خواب کے خواب میں

چھان کر دیکھ لی ریگِ دشتِ زیاں

ڈھونڈ پائے نہ ہم دوسرا آسماں

اجنبی موسموں کی اُڑانوں میں ٹُوٹے پروں کی طرح

ہم جیۓ بھی تو کیا

کس نے دیکھا ہمیں

Wednesday, 14 June 2023

زندگی دائروں میں چلتی ہے اور سب دائرے ادھورے ہیں

 زندگی دائروں میں چلتی ہے


دل کے نقطے سے درد کی قوسیں

ضبط کے، گرد بادِ حیرت کے

ہجر کی وصل ساز وحشت کے

ان گنت زاویے بناتی ہیں

زخمِ گِریہ کی ستر پوشی کو