کوئی زندگی تھی گمان سی
کیا کوئی خبر آئے
زندگی کے ترکش میں
جتنے تیر باقی تھے
میری بے دھیانی سے
دل کی خوش گمانی سے
کوئی زندگی تھی گمان سی
کیا کوئی خبر آئے
زندگی کے ترکش میں
جتنے تیر باقی تھے
میری بے دھیانی سے
دل کی خوش گمانی سے
مرگ بر شاہ
پرکاہ سے بد تر ہیں تِرے جاہ و حشم
شہر پانی پہ کھڑا ہے، سو بہے جاتا ہے
چشمِ خونناب کا گِریہ جو کہیں پر ٹھہرے
دُھوپ دیوار پہ، دیوار زمیں پر ٹھہرے
بابِ احسان کُھلے، بیعتِ رضوان کُھلے
چشمۂ خضر عبث، تختِ سلیماں بے سود
ہوا جانتی ہے
نار کو نور
تعصب کو مساوات لکھو
عہدِ ابلیس کو آدم کی فتوحات لکھو
خود کشی قتل کو
چیخوں کو مناجات لکھو
لبِ گویا کی جزا سلسلۂ طوق لکھو
جس کی طلب میں عمر کا سودا نہیں ہوا
اس خواب کا سراب بھی اپنا نہیں ہوا
اپنی صلیب سر پہ لیے چل رہے ہیں لوگ
شہرِ سزا میں کوئی کسی کا نہیں ہوا
کہنے کو جی سنبھل تو گیا ہے مگر کہیں
اک درد ہے کہ جس کا مداوا نہیں ہوا
بُجھارت
یہ میرے دل کی پگڈنڈی پہ چلتی نظم ہے کوئی
کہ سیل وقت کی بھٹکی ہوئی اک لہر سا لمحہ
جو آنچل پر ستارے اور ان آنکھوں میں آنسو ٹانک دیتا ہے
ستاروں کی چمک
اور آنسوؤں کی جھلملاہٹ میں
عدم خواب کے خواب میں
چھان کر دیکھ لی ریگِ دشتِ زیاں
ڈھونڈ پائے نہ ہم دوسرا آسماں
اجنبی موسموں کی اُڑانوں میں ٹُوٹے پروں کی طرح
ہم جیۓ بھی تو کیا
کس نے دیکھا ہمیں
زندگی دائروں میں چلتی ہے
دل کے نقطے سے درد کی قوسیں
ضبط کے، گرد بادِ حیرت کے
ہجر کی وصل ساز وحشت کے
ان گنت زاویے بناتی ہیں
زخمِ گِریہ کی ستر پوشی کو