عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تخت کا اس طرف کر و فر دیکھیے
سجدۂ شکر میں اِک بشر دیکھیے
ذکرِ سجادؑ ہے دل کی آسودگی
خونِ مظلوم ہے چارہ گر، دیکھیے
حق کے بن کر رہیں گر وفادار ہم
سر اٹھائے گا پھر کیسے شر، دیکھیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تخت کا اس طرف کر و فر دیکھیے
سجدۂ شکر میں اِک بشر دیکھیے
ذکرِ سجادؑ ہے دل کی آسودگی
خونِ مظلوم ہے چارہ گر، دیکھیے
حق کے بن کر رہیں گر وفادار ہم
سر اٹھائے گا پھر کیسے شر، دیکھیے
ظالم کا احترام نہیں ہم سے ہو سکا
ہاں ہاں، نہیں، یہ کام نہیں ہم سے ہو سکا
تھی پُر شکوہ ظاہراً شاہوں کی بارگاہ
ان کو مگر سلام، نہیں ہم سے ہو سکا
یہ بھی خدا کا فضل ہے اور فضلِ خاص ہے
کہ دل یہ وقفِ جام، نہیں ہم سے ہو سکا
یہ درد ایسے بھی خُوئے کمال تک آئے
اثر شگفتگئ خال خال تک آئے
کسی کے ہاتھ ہی راضی نہ تھے رفُو کے لیے
وگرنہ زخم حدِ اِندمال تک آئے
کلی چٹک کے لبوں کے مزاج تک پہنچی
گُلاب ٹُوٹ کے سُرخئ گال تک آئے
میرے سر سے مِرا سائباں اُٹھ گیا
سایہ دار اک شجر مہرباں،اٹھ گیا
وہ محبت کی تھا اک زباں، اٹھ گیا
خامشی جس کی رشک بیاں، اٹھ گیا
استقامت کا کوہِ گراں، اٹھ گیا
سخت تکلیف میں لب پہ شکوہ نہیں
سر دشت جنوں ہم انجمن کی بات کرتے ہیں
ہے زاغوں کے تصرف میں چمن کی بات کرتے ہیں
لسانیت ہے، رنگ و نسل، فرقوں کا تعصب ہے
مگر اسلام کے بیٹے، وطن کی بات کرتے ہیں
ہمارے ہمسفر ہیں کہکشائیں، ماہ و انجم بھی
کسی کم ظرف سے کب، دادِ فن کی بات کرتے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جا کر انہیں سنائیں، حالِ دلِ تپیدہ
ہم ان کے رو برو ہوں، ہے خواہشِ شدیدہ
ہے یہ کسب فیض دیکھو، سر پیش بدوؤں کے
ہوئیں کسریٰ اور قیصر کی بھی گردنیں خمیدہ
سلمان فارسیؓ ہوں،۔ یا ہوں بلالؓ حبشی
درِ مصطفیٰﷺ پہ آ کر ہوئے کیسے برگزیدہ