Showing posts with label جواد حیدر. Show all posts
Showing posts with label جواد حیدر. Show all posts

Tuesday, 5 April 2022

زمانہ یہ کیسا برا آ گیا

 زمانہ یہ کیسا برا آ گیا

کہ وقت امتحاں کا کڑا آ گیا

بشر نے ستم کی حدیں توڑ دیں

رحم دل میں کچھ نہ ذرا آ گیا

ہے دل اور زباں میں یہاں فاصلے

یہ کیسا نفاق ہے چلا آ گیا

Sunday, 16 January 2022

میں نے دنیا میں بہت ظلم کو بڑھتے دیکھا

 میں نے دنیا میں بہت ظلم کو بڑھتے دیکھا

مسندِ عدل پہ منصف کو جو بِکتے دیکھا

حاکمِ وقت کی غفلت کے نتیجے میں بسا

ظلم کے ہاتھ سے پھولوں کو مسلتے دیکھا

جس گھڑی ظلم و جنایت پہ اتر آیا بشر

میں نے انسان کو انسان سے ڈرتے دیکھا

Saturday, 8 January 2022

رہ انجان پہ چلتے ہوئے ڈر لگتا ہے

 رہِ انجان پہ چلتے ہوئے ڈر لگتا ہے

میں اکیلا ہوں گزرتے ہوئے ڈر لگتا ہے

مجھے سچ بات پہ تہمت جو لگی کاذب کی

اب تو سچ بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

مجھے دشمن کی صفوں میں بھی کئی دوست ملے

اب نئے دوست بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

Thursday, 6 January 2022

مل جائے گا بھر بھر کے منگتوں کو یہاں اتنا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


مل جائے گا بھر بھر کے منگتوں کو یہاں اتنا

آقاﷺ کی محبت میں اخلاص ہو بس جتنا

دے سب کی طرف سے پھر نذرانہ عقیدت کا

جب عشقِ نبیﷺ میں تم طیبہ کا سفر کرنا

اے ربِّ جہاں! تم کو ہے پنجتنؑ کا صدقہ

ہر اُمتی کے دل کو اس در پہ جھکا رکھنا

Wednesday, 5 January 2022

سجاؤ بزم ادب مصطفیٰ کی بات کرو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


سجاؤ بزمِ ادب، مصطفیٰﷺ کی بات کرو

نبیﷺ کی بات کرو، مرتضیٰؑ کی بات کرو

سمجھ میں آئے گا، ہے کون شافعِ محشرﷺ

خدا کے قول سے تم مصطفیٰﷺ کی بات کرو

کوئی جو پوچھے کہ ہے کون ساقیٔ کوثر؟

نبیؐ کے قول سے تم مرتضیٰؑ کی بات کرو

Tuesday, 4 January 2022

ظالم تاک میں بیٹھے ہیں ہر بستی کے ہر کونے میں

 ظالم تاک میں بیٹھے ہیں ہر بستی کے ہر کونے میں

ذبح کئے جاتے ہیں قاتل، مظلوموں کو سوتے میں

مار کے خوش ہو جاتے ہیں بے دردی سے انسانوں کو

یہ قاتل جتنے سارے ہیں، کچھ رحم نہیں ہے سینے میں

قاتل چھین کے لے جاتے ہیں، کلیاں جلدی جلدی میں

مائیں آس لگاتی ہیں،۔ بچوں کا رستہ تکنے میں

Tuesday, 21 September 2021

ستم کی آگ جہاں سے بجھا بجھا کے چلو

 ستم کی آگ جہاں سے بجھا بجھا کے چلو

جہاں میں امن کی شمعیں جلا جلا کے چلو

قلم دوات کے ہتھیار دے کے بچوں کو

ستمگروں کو ہمیشہ ہرا ہرا کے چلو

چراغ بن کے جہاں سے مٹاؤ ظلمت کو

بھٹکنے والوں کو رستہ دکھا دکھا کے چلو