زمانہ یہ کیسا برا آ گیا
کہ وقت امتحاں کا کڑا آ گیا
بشر نے ستم کی حدیں توڑ دیں
رحم دل میں کچھ نہ ذرا آ گیا
ہے دل اور زباں میں یہاں فاصلے
یہ کیسا نفاق ہے چلا آ گیا
زمانہ یہ کیسا برا آ گیا
کہ وقت امتحاں کا کڑا آ گیا
بشر نے ستم کی حدیں توڑ دیں
رحم دل میں کچھ نہ ذرا آ گیا
ہے دل اور زباں میں یہاں فاصلے
یہ کیسا نفاق ہے چلا آ گیا
میں نے دنیا میں بہت ظلم کو بڑھتے دیکھا
مسندِ عدل پہ منصف کو جو بِکتے دیکھا
حاکمِ وقت کی غفلت کے نتیجے میں بسا
ظلم کے ہاتھ سے پھولوں کو مسلتے دیکھا
جس گھڑی ظلم و جنایت پہ اتر آیا بشر
میں نے انسان کو انسان سے ڈرتے دیکھا
رہِ انجان پہ چلتے ہوئے ڈر لگتا ہے
میں اکیلا ہوں گزرتے ہوئے ڈر لگتا ہے
مجھے سچ بات پہ تہمت جو لگی کاذب کی
اب تو سچ بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے
مجھے دشمن کی صفوں میں بھی کئی دوست ملے
اب نئے دوست بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
مل جائے گا بھر بھر کے منگتوں کو یہاں اتنا
آقاﷺ کی محبت میں اخلاص ہو بس جتنا
دے سب کی طرف سے پھر نذرانہ عقیدت کا
جب عشقِ نبیﷺ میں تم طیبہ کا سفر کرنا
اے ربِّ جہاں! تم کو ہے پنجتنؑ کا صدقہ
ہر اُمتی کے دل کو اس در پہ جھکا رکھنا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
سجاؤ بزمِ ادب، مصطفیٰﷺ کی بات کرو
نبیﷺ کی بات کرو، مرتضیٰؑ کی بات کرو
سمجھ میں آئے گا، ہے کون شافعِ محشرﷺ
خدا کے قول سے تم مصطفیٰﷺ کی بات کرو
کوئی جو پوچھے کہ ہے کون ساقیٔ کوثر؟
نبیؐ کے قول سے تم مرتضیٰؑ کی بات کرو
ظالم تاک میں بیٹھے ہیں ہر بستی کے ہر کونے میں
ذبح کئے جاتے ہیں قاتل، مظلوموں کو سوتے میں
مار کے خوش ہو جاتے ہیں بے دردی سے انسانوں کو
یہ قاتل جتنے سارے ہیں، کچھ رحم نہیں ہے سینے میں
قاتل چھین کے لے جاتے ہیں، کلیاں جلدی جلدی میں
مائیں آس لگاتی ہیں،۔ بچوں کا رستہ تکنے میں
ستم کی آگ جہاں سے بجھا بجھا کے چلو
جہاں میں امن کی شمعیں جلا جلا کے چلو
قلم دوات کے ہتھیار دے کے بچوں کو
ستمگروں کو ہمیشہ ہرا ہرا کے چلو
چراغ بن کے جہاں سے مٹاؤ ظلمت کو
بھٹکنے والوں کو رستہ دکھا دکھا کے چلو