Saturday, 8 January 2022

رہ انجان پہ چلتے ہوئے ڈر لگتا ہے

 رہِ انجان پہ چلتے ہوئے ڈر لگتا ہے

میں اکیلا ہوں گزرتے ہوئے ڈر لگتا ہے

مجھے سچ بات پہ تہمت جو لگی کاذب کی

اب تو سچ بات بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

مجھے دشمن کی صفوں میں بھی کئی دوست ملے

اب نئے دوست بناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

چھوڑ کر ہاتھ میرا دل ہی نہ توڑے پھر سے

اب مجھے ہاتھ ملاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

کہیں کھِلنے سے بغاوت نہ کریں سارے پھول

مجھے پھولوں کو مسلتے ہوئے ڈر لگتا ہے

اپنے کندھوں پہ اٹھایا ہے جو کارِ ابلیس

اب تو انسان سے ملتے ہوئے ڈر لگتا ہے

میرے حالات پہ ہنسنے لگے جب دیوانے

قصۂ درد سناتے ہوئے ڈر لگتا ہے

ہر گلی، چوک پہ بیٹھے ہیں لٹیرے سارے

اب نئے شہر بساتے ہوئے ڈر لگتا ہے

چور ظالم کا بسیرا ہے یہاں سڑکوں پر

اب مجھے شہر میں رہتے ہوئے ڈر لگتا ہے

کہیں کا فر ہی نہ کہہ دیں مجھے ایمان والے

سر کو سجدے میں بھی رکھتے ہوئے ڈر لگتا ہے

کہیں جنت کی ہوس میں نہ پھٹے پروانے

اب تو مسجد میں بھی جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

قتل کرتے ہیں یہاں دیکھ کے انسانوں کو

اب تو پہچان بتاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

چُن کے مارے ہیں جو ہر شہر میں استادوں کو

اب مجھے علم سکھاتے ہوئے ڈر لگتا ہے

جب حکمران کے سائے میں ہو قاتل حیدر

مجھے اس دیس میں جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے


جواد حیدر

No comments:

Post a Comment