جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی
خواب تو دے دئیے اس نے ہمیں مہلت نہیں دی
بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں
شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی
اس کی خاموشی مِری راہ میں آ بیٹھی ہے
میں چلا جاتا مگر اس نے اجازت نہیں دی
جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی
خواب تو دے دئیے اس نے ہمیں مہلت نہیں دی
بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں
شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی
اس کی خاموشی مِری راہ میں آ بیٹھی ہے
میں چلا جاتا مگر اس نے اجازت نہیں دی
ہم تِرے عشق میں کچھ ایسے ٹھکانے لگ جائیں
ریگ زاروں میں پھریں خاک اڑانے لگ جائیں
ڈھونڈتا رہتا ہوں ہاتھوں کی لکیروں میں تجھے
چاہتا ہوں مِرے ہاتھوں میں خزانے لگ جائیں
یہ الگ بات کہ تجدیدِ تعلق نہ ہوا
پر اسے بھولنا چاہوں تو زمانے لگ جائیں
تم جو آ جاؤ غم دھواں ہو جائے
بزمِ جاں رشکِ آسماں ہو جائے
ٹوٹ جاتا ہے دم محبت کا
بدگمانی اگر جواں ہو جائے
حال و ماضی کی سرحدیں ایسی
زندگی پَل میں رفتگاں ہو جائے
زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے
مِری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے
عجب ٹھہراؤ پیدا ہو رہا ہے روز و شب میں
مِری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے
میں تجھ کو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں مری دنیا
مِری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے
سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے
اٹھتا ہے دھواں دل سے نگاہوں سے جگر سے
روٹھے ہوئے سورج کو منانے کی لگن میں
ہم لوگ سرِ شام نکل پڑتے ہیں گھر سے
آج اسکے جنازے میں ہے اک شہر صف آراء
کل مر گیا جو آدمی تنہائی کے ڈر سے
اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں
کوئی صورت پس تصویر نہیں چاہتا میں
چاہتا ہوں کہ رفاقت کا بھرم رہ جائے
عہد و پیمان کی تفسیر نہیں چاہتا میں
حکم صادر ہے تو نافذ بھی کرو میرے حضور
فیصلے میں کوئی تاخیر نہیں چاہتا میں