Showing posts with label احمد اشفاق. Show all posts
Showing posts with label احمد اشفاق. Show all posts

Thursday, 25 February 2021

جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی

 جتنی ہم چاہتے تھے اتنی محبت نہیں دی

خواب تو دے دئیے اس نے ہمیں مہلت نہیں دی

بکتا رہتا سر بازار کئی قسطوں میں

شکر ہے میرے خدا نے مجھے شہرت نہیں دی

اس کی خاموشی مِری راہ میں آ بیٹھی ہے

میں چلا جاتا مگر اس نے اجازت نہیں دی

Tuesday, 23 February 2021

ہم ترے عشق میں کچھ ایسے ٹھکانے لگ جائیں

 ہم تِرے عشق میں کچھ ایسے ٹھکانے لگ جائیں

ریگ زاروں میں پھریں خاک اڑانے لگ جائیں

ڈھونڈتا رہتا ہوں ہاتھوں کی لکیروں میں تجھے

چاہتا ہوں مِرے ہاتھوں میں خزانے لگ جائیں

یہ الگ بات کہ تجدیدِ تعلق نہ ہوا

پر اسے بھولنا چاہوں تو زمانے لگ جائیں

Sunday, 17 January 2021

تم جو آ جاؤ غم دھواں ہو جائے

 تم جو آ جاؤ غم دھواں ہو جائے

بزمِ جاں رشکِ آسماں ہو جائے

ٹوٹ جاتا ہے دم محبت کا

بدگمانی اگر جواں ہو جائے

حال و ماضی کی سرحدیں ایسی

زندگی پَل میں رفتگاں ہو جائے

Friday, 15 January 2021

زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے

 زمیں والوں کی بستی میں سکونت چاہتی ہے

مِری فطرت ستاروں سے اجازت چاہتی ہے

عجب ٹھہراؤ پیدا ہو رہا ہے روز و شب میں

مِری وحشت کوئی تازہ اذیت چاہتی ہے

میں تجھ کو لکھتے لکھتے تھک چکا ہوں مری دنیا

مِری تحریر اب ہر پل محبت چاہتی ہے

Thursday, 14 January 2021

سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے

 سب جل گیا جلتے ہوئے خوابوں کے اثر سے

اٹھتا ہے دھواں دل سے نگاہوں سے جگر سے

روٹھے ہوئے سورج کو منانے کی لگن میں

ہم لوگ سرِ شام نکل پڑتے ہیں گھر سے

آج اسکے جنازے میں ہے اک شہر صف آراء

کل مر گیا جو آدمی تنہائی کے ڈر سے

Wednesday, 13 January 2021

اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں

 اب کسی خواب کی تعبیر نہیں چاہتا میں

کوئی صورت پس تصویر نہیں چاہتا میں

چاہتا ہوں کہ رفاقت کا بھرم رہ جائے

عہد و پیمان کی تفسیر نہیں چاہتا میں

حکم صادر ہے تو نافذ بھی کرو میرے حضور

فیصلے میں کوئی تاخیر نہیں چاہتا میں