Showing posts with label سعید آسی. Show all posts
Showing posts with label سعید آسی. Show all posts

Monday, 9 June 2025

کچھ سناؤ بہت اداس ہوں میں

 کچھ سناؤ بہت اداس ہوں میں

گیت گاؤ، بہت اداس ہوں میں

دل کی دنیا اجاڑنے والے

مان جاؤ، بہت اداس ہوں میں

میری دیوانگی کا مت سوچو

پاس آؤ، بہت اداس ہوں میں

Monday, 23 September 2024

بھوکی مر گئی خلقت یارا

 روشن خیالوں کی نگری میں

بھوکی مر گئی خلقت یارا

اور کہیں سے کیا پاؤ گے

درد کی ایسی لذت یارا

کیوں کہ ہم کو راس نہ آئی

دو پل کی بھی راحت یارا

Sunday, 22 September 2024

عزتوں کا رکھوالا مولا

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عزتوں کا رکھوالا مولا

سب کی سننے والا مولا

دل کی اندھیری نگری میں

کر دے سحر اجالا مولا

ناؤ بھنور میں ڈوب رہی ہے

پڑ گیا غم سے پالا مولا

Saturday, 21 September 2024

راتوں کو اٹھ کر جاگنا دل کی خوشی کی بات ہے

 راتوں کو اٹھ کر جاگنا دل کی خوشی کی بات ہے

گھر سے نکل کر بھاگنا دل کی خوشی کی بات ہے

یہ تو نہیں کہ ڈھونڈنے سے کوئی منزل نہ ملے

تیری گلی میں بھٹکنا دل کی خوشی کی بات ہے

جس نے سوائے درد کے کچھ اور بخشا ہی نہیں

اس کے لیے ہی سوچنا دل کی خوشی کی بات ہے

Monday, 10 January 2022

اب تو جینا بھی ہوا دشوار الٰہی خیر ہو

اب تو جینا بھی ہوا دشوار، الٰہی خیر ہو

کس قیامت کے ہیں یہ آ ثار ،الٰہی خیر ہو

 مارنا مرنا،۔ ڈرانا اور ڈرنا بے دریغ

نفرتوں کے اس قدر انبار، الٰہی خیر ہو

قوم پر طاری ہوا ہے چھین لینے کا جنوں

اور پاگل پن میں ہے سرکار، الٰہی خیر ہو