کچھ سناؤ بہت اداس ہوں میں
گیت گاؤ، بہت اداس ہوں میں
دل کی دنیا اجاڑنے والے
مان جاؤ، بہت اداس ہوں میں
میری دیوانگی کا مت سوچو
پاس آؤ، بہت اداس ہوں میں
کچھ سناؤ بہت اداس ہوں میں
گیت گاؤ، بہت اداس ہوں میں
دل کی دنیا اجاڑنے والے
مان جاؤ، بہت اداس ہوں میں
میری دیوانگی کا مت سوچو
پاس آؤ، بہت اداس ہوں میں
روشن خیالوں کی نگری میں
بھوکی مر گئی خلقت یارا
اور کہیں سے کیا پاؤ گے
درد کی ایسی لذت یارا
کیوں کہ ہم کو راس نہ آئی
دو پل کی بھی راحت یارا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عزتوں کا رکھوالا مولا
سب کی سننے والا مولا
دل کی اندھیری نگری میں
کر دے سحر اجالا مولا
ناؤ بھنور میں ڈوب رہی ہے
پڑ گیا غم سے پالا مولا
راتوں کو اٹھ کر جاگنا دل کی خوشی کی بات ہے
گھر سے نکل کر بھاگنا دل کی خوشی کی بات ہے
یہ تو نہیں کہ ڈھونڈنے سے کوئی منزل نہ ملے
تیری گلی میں بھٹکنا دل کی خوشی کی بات ہے
جس نے سوائے درد کے کچھ اور بخشا ہی نہیں
اس کے لیے ہی سوچنا دل کی خوشی کی بات ہے
اب تو جینا بھی ہوا دشوار، الٰہی خیر ہو
کس قیامت کے ہیں یہ آ ثار ،الٰہی خیر ہو
مارنا مرنا،۔ ڈرانا اور ڈرنا بے دریغ
نفرتوں کے اس قدر انبار، الٰہی خیر ہو
قوم پر طاری ہوا ہے چھین لینے کا جنوں
اور پاگل پن میں ہے سرکار، الٰہی خیر ہو