Showing posts with label کنور بے چین. Show all posts
Showing posts with label کنور بے چین. Show all posts

Wednesday, 19 July 2023

دل پہ مشکل ہے بہت دل کی کہانی لکھنا

 دل پہ مشکل ہے بہت دل کی کہانی لکھنا

جیسے بہتے ہوئے پانی پہ ہو پانی لکھنا

کوئی اُلجھن ہی رہی ہو گی جو وہ بُھول گیا

میرے حصے میں کوئی شام سُہانی لکھنا

آتے جاتے ہوئے موسم سے الگ رہ کے ذرا

اب کے خط میں تو کوئی بات پُرانی لکھنا

Saturday, 13 May 2023

آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے

آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے

ہم دل میں اپنے اور بھی گہرے اتر گئے

سانپوں نے من کی بین کو کاٹا ہے اس طرح

تھے اس کے پاس جتنے بھی لہرے اتر گئے

لائے ہیں وہ ہی آگ کے موتی بٹور کر

جو آنسوؤں کی برف میں گہرے اتر گئے

Sunday, 30 April 2023

دل میں جو زخم ہے ان کو بھی ٹٹولے کوئی

 دل میں جو زخم ہے ان کو بھی ٹٹولے کوئی

اب یہ چاہت ہے کبھی پیار سے بولے کوئی

دیکھنا یہ ہے کہ پگھلتا ہے کہاں تک پتھر

دل میں بھڑکا تو گیا پیار کے شعلے کوئی

میں نے خاص اشکوں کو موتی کی طرح رکھا ہے

ان کو احساس کے دھاگے میں پِرو لے کوئی

Tuesday, 4 April 2023

کوئی رستہ ہے نہ منزل نہ تو گھر ہے کوئی

 کوئی رستہ ہے نہ منزل نہ تو گھر ہے کوئی

آپ کہیے گا سفر یہ بھی سفر ہے کوئی

پاس بک پر تو نظر ہے کہ کہاں رکھی ہے

پیار کے خط کا پتہ ہے نہ خبر ہے کوئی

ٹھوکریں دے کے تجھے اس نے تو سمجھایا بہت

ایک ٹھوکر کا بھی کیا تجھ پہ اثر ہے کوئی

Saturday, 5 November 2022

آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں

آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں

یہ تو ہمارے اپنے خیالوں کے داغ ہیں

میری ہتھیلیوں پہ جو مہندی سے رچ گئے

یہ آنسوؤں میں بھیگے رومالوں کے داغ ہیں

باہر نکل کے جسم سے جاؤں تو کس طرح

سانکل کہیں کہیں پہ یہ تالوں کے داغ ہیں