دل پہ مشکل ہے بہت دل کی کہانی لکھنا
جیسے بہتے ہوئے پانی پہ ہو پانی لکھنا
کوئی اُلجھن ہی رہی ہو گی جو وہ بُھول گیا
میرے حصے میں کوئی شام سُہانی لکھنا
آتے جاتے ہوئے موسم سے الگ رہ کے ذرا
اب کے خط میں تو کوئی بات پُرانی لکھنا
دل پہ مشکل ہے بہت دل کی کہانی لکھنا
جیسے بہتے ہوئے پانی پہ ہو پانی لکھنا
کوئی اُلجھن ہی رہی ہو گی جو وہ بُھول گیا
میرے حصے میں کوئی شام سُہانی لکھنا
آتے جاتے ہوئے موسم سے الگ رہ کے ذرا
اب کے خط میں تو کوئی بات پُرانی لکھنا
آنکھوں سے جب یہ خواب سنہرے اتر گئے
ہم دل میں اپنے اور بھی گہرے اتر گئے
سانپوں نے من کی بین کو کاٹا ہے اس طرح
تھے اس کے پاس جتنے بھی لہرے اتر گئے
لائے ہیں وہ ہی آگ کے موتی بٹور کر
جو آنسوؤں کی برف میں گہرے اتر گئے
دل میں جو زخم ہے ان کو بھی ٹٹولے کوئی
اب یہ چاہت ہے کبھی پیار سے بولے کوئی
دیکھنا یہ ہے کہ پگھلتا ہے کہاں تک پتھر
دل میں بھڑکا تو گیا پیار کے شعلے کوئی
میں نے خاص اشکوں کو موتی کی طرح رکھا ہے
ان کو احساس کے دھاگے میں پِرو لے کوئی
کوئی رستہ ہے نہ منزل نہ تو گھر ہے کوئی
آپ کہیے گا سفر یہ بھی سفر ہے کوئی
پاس بک پر تو نظر ہے کہ کہاں رکھی ہے
پیار کے خط کا پتہ ہے نہ خبر ہے کوئی
ٹھوکریں دے کے تجھے اس نے تو سمجھایا بہت
ایک ٹھوکر کا بھی کیا تجھ پہ اثر ہے کوئی
آنکھوں میں جو ہماری یہ جالوں کے داغ ہیں
یہ تو ہمارے اپنے خیالوں کے داغ ہیں
میری ہتھیلیوں پہ جو مہندی سے رچ گئے
یہ آنسوؤں میں بھیگے رومالوں کے داغ ہیں
باہر نکل کے جسم سے جاؤں تو کس طرح
سانکل کہیں کہیں پہ یہ تالوں کے داغ ہیں