ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
سوچ کتنا حسین منظر تھا
لوگ غمگیں تھے ہار پر میری
اور وہ تالیاں بجا رہی تھی
اسامہ زاہروی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
سوچ کتنا حسین منظر تھا
لوگ غمگیں تھے ہار پر میری
اور وہ تالیاں بجا رہی تھی
اسامہ زاہروی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
ذہین تم ہو فطین تم ہو
گلاب جیسے حسین تم ہو
وفا نگر کے مکیں نہیں کیوں
اسامہ زاہروی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/ہائیکو/تروینی/ترائلے
ستم تو دیکھیے سب مستقل ہیں
حسیں لب اور آنکھیں شربتی، دکھ
محبت،عشق، چاہت، دل لگی، دکھ
اسامہ زاہروی
ہاں، تِری گفتگو اذیت ہے
صاف کہتا ہوں؛ تُو اذیت ہے
تُو مجھے مل نہ پائے گا کبھی بھی
اب تِری جستجو اذیت ہے
عشق کا راستہ چُنا ہے، مگر
بخدا! کو بکو اذیت ہے
حسن میں آفرین لگتی ہو
قد میں بھی پانچ/تین لگتی ہو
جب پہنتی ہو سرخ رنگ لباس
تب بلا کی حسین لگتی ہو
لوگ مجھ کو تو تیز کہتے ہیں
تُم بھی کافی ذہین لگتی ہو
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
وہﷺ امیرِ حرم
دستگیرِ حرم
وہ جو چاہیں، بنوں
میں سفیرِ حرم
وہ شہِ دو جہاں
میں فقیرِ حرم
ایک دو بار استخارہ کِیا
پھر کہیں عشق سے کنارہ کیا
ہم پہ دوزخ کی آگ واجب ہو
عشق تم سے اگر دوبارہ کیا
تجھ کو دیکھا بہت قریب سے اور
دور بیٹھے بھی یہ نظارہ کیا
عارفانہ کلام حمدیہ کلام
غفور تُو ہے، کریم تُو ہے
مِرے خدایا! عظیم تو ہے
جلال دیکھوں کہ رحم تیرا
جلیل تو ہے، رحیم تو ہے
دل و زباں کہہ رہے ہیں مولا
رفیق تو ہے، کلیم تو ہے
زندگی نام ہے کسی دکھ کا
یہ بهی پیغام ہے کسی دُکھ کا
زندگی نام ہے کسی دکھ کا
دکھ ہزاروں اُسے ملیں گے، دوست
جس کی بیٹی کو دکھ کہیں گے، دوست
خواب سارے بُهلا دیے سُکھ کے
ہم خریدار بن گئے دکھ کے