آپ اپنی مثال ہوتا ہے
کوئی لمحہ کمال ہوتا ہے
آپ اپنی مثال ہوتا ہے
بخت اس کا کمال ہوتا ہے
کچھ لبوں سے جواب سن کر بهی
کوئی چہرہ سوال ہوتا ہے
آپ اپنی مثال ہوتا ہے
کوئی لمحہ کمال ہوتا ہے
آپ اپنی مثال ہوتا ہے
بخت اس کا کمال ہوتا ہے
کچھ لبوں سے جواب سن کر بهی
کوئی چہرہ سوال ہوتا ہے
اس اداسی سے دم نکلتا ہے
تب کہیں جا کے غم نکلتا ہے
اب اکیلے نہیں چلا جاتا
اب قدم پر قدم نکلتا ہے
میں تو ہو کر بھی گھر نہیں ہوتا
وہ نکل کر بھی کم نکلتا ہے
اپنی دیوار اپنے در والے
ہم صبا زاد تھے سحر والے
یہ اڑانیں پروں پہ لکھی ہیں
ہم پرندے نہیں شجر والے
کھل رہا ہے شگاف صبح فلک
شب کے وقفے نہیں ہیں ڈر والے
جو پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے
یہ لگتا ہے کہ عادت پڑ گئی ہے
کوئی تعویز دو ردِّ بلا کا
مِرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے
مکیں سب جا چکے ہیں اور مکاں کی
مِرے ذمے حفاظت پڑ گئی ہے
اداسی تیرگی ہوتی تو شاید
اک دِیا آباد کرنے سے ہی چھٹ جاتی
مگر ایسا نہیں ہے
اداسی راستہ ہوتی
تو اس کو اپنے پیروں سے گنا کرتے
کہیں تو جا کے گنتی ختم ہو جاتی