Showing posts with label علی معین. Show all posts
Showing posts with label علی معین. Show all posts

Monday, 7 March 2022

آپ اپنی مثال ہوتا ہے

 آپ اپنی مثال ہوتا ہے

کوئی لمحہ کمال ہوتا ہے

آپ اپنی مثال ہوتا ہے

بخت اس کا کمال ہوتا ہے

کچھ لبوں سے جواب سن کر بهی

کوئی چہرہ سوال ہوتا ہے

Friday, 11 February 2022

اس اداسی سے دم نکلتا ہے

 اس اداسی سے دم نکلتا ہے

تب کہیں جا کے غم نکلتا ہے

اب اکیلے نہیں چلا جاتا

اب قدم پر قدم نکلتا ہے

میں تو ہو کر بھی گھر نہیں ہوتا

وہ نکل کر بھی کم نکلتا ہے

Sunday, 9 January 2022

اپنی دیوار اپنے در والے

 اپنی دیوار اپنے در والے

ہم صبا زاد تھے سحر والے

یہ اڑانیں پروں پہ لکھی ہیں

ہم پرندے نہیں شجر والے

کھل رہا ہے شگاف صبح فلک

شب کے وقفے نہیں ہیں ڈر والے

Tuesday, 6 April 2021

جو پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے

 جو پھر تیری ضرورت پڑ گئی ہے

یہ لگتا ہے کہ عادت پڑ گئی ہے

کوئی تعویز دو ردِّ بلا کا

مِرے پیچھے محبت پڑ گئی ہے

مکیں سب جا چکے ہیں اور مکاں کی

مِرے ذمے حفاظت پڑ گئی ہے

Thursday, 18 March 2021

اداسی تیرگی ہوتی تو شاید

 اداسی تیرگی ہوتی تو شاید

اک دِیا آباد کرنے سے ہی چھٹ جاتی

مگر ایسا نہیں ہے

اداسی راستہ ہوتی

تو اس کو اپنے پیروں سے گنا کرتے

کہیں ‌تو جا کے گنتی ختم ہو جاتی