یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا
پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا
وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار
گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا
کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے
با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا
یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا
پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا
وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار
گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا
کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے
با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا
ویران دل میں رونق کاشانہ بن کے آ
اے یاد یار جلوۂ جانانہ بن کے آ
حاصل ہوں تلخیوں میں بھی لذات اے حیات
بزم جہاں میں گردش پیمانہ بن کے آ
دونوں کی ظلمتوں کو ضرورت ہے نور کی
شمع حرم، چراغ صنم خانہ بن کے آ
کوئی بے کس کوئی مجبور مٹا ہی ہو گا
جب لگی آگ تو گھر کوئی جلا ہی ہو گا
ہم نے مانا کہ ہے افواہ، مگر کیوں پھیلی؟
بات تو ہو گی کوئی، کچھ تو ہوا ہی ہو گا
کون آتا ہے تِری پُرسشِ غم کو ناداں؟
جس کے قدموں کی تھی آہٹ کوئی راہی ہو گا
سنگ جفا سے پس کے ولی خاک تو ہوا
بارے حریفِ گردشِ افلاک تو ہوا
یغمائے روزگار نے چھینا سکونِ دل
لیکن معاملات میں چالاک تو ہوا
دل کو مدافعت کے طریقے تو آ گئے
لُٹ کر رہِ حیات میں بے باک تو ہوا
پینے لگے شراب بھی کرنے کو غم غلط
جو بات کی ولی وہ خدا کی قسم غلط
فکر جہاں میں جان جلانا فضول بات
عشق بتاں میں سوز دل و چشم نم غلط
کب منزل سکوں سے وہ ہو پائے آشنا
اٹھیں رہ حیات میں جس کے قدم غلط