Showing posts with label ولی انصاری. Show all posts
Showing posts with label ولی انصاری. Show all posts

Tuesday, 11 August 2026

یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا

 یوسف کی طرح رونق بازار میں ہی تھا

پونجی تھا میں ہی اور خریدار میں ہی تھا

وہ جس کے تیر سے مرا سینہ ہوا فگار

گر تو یقیں کرے مرے غمخوار میں ہی تھا

کل میکدے میں ٹھیک ہی دیکھا تھا آپ نے

با صاحبان جبہ و دستار میں ہی تھا

Saturday, 27 December 2025

ویران دل میں رونق کاشانہ بن کے آ

 ویران دل میں رونق کاشانہ بن کے آ

اے یاد یار جلوۂ جانانہ بن کے آ

حاصل ہوں تلخیوں میں بھی لذات اے حیات

بزم جہاں میں گردش پیمانہ بن کے آ

دونوں کی ظلمتوں کو ضرورت ہے نور کی

شمع حرم، چراغ صنم خانہ بن کے آ

Friday, 3 October 2025

کوئی بے کس کوئی مجبور مٹا ہی ہو گا

 کوئی بے کس کوئی مجبور مٹا ہی ہو گا

جب لگی آگ تو گھر کوئی جلا ہی ہو گا

ہم نے مانا کہ ہے افواہ، مگر کیوں پھیلی؟

بات تو ہو گی کوئی، کچھ تو ہوا ہی ہو گا

کون آتا ہے تِری پُرسشِ غم کو ناداں؟

جس کے قدموں کی تھی آہٹ کوئی راہی ہو گا

Saturday, 24 May 2025

سنگ جفا سے پس کے ولی خاک تو ہوا

 سنگ جفا سے پس کے ولی خاک تو ہوا

بارے حریفِ گردشِ افلاک تو ہوا

یغمائے روزگار نے چھینا سکونِ دل

لیکن معاملات میں چالاک تو ہوا

دل کو مدافعت کے طریقے تو آ گئے

لُٹ کر رہِ حیات میں بے باک تو ہوا

Tuesday, 24 October 2023

پینے لگے شراب بھی کرنے کو غم غلط

پینے لگے شراب بھی کرنے کو غم غلط

جو بات کی ولی وہ خدا کی قسم غلط

فکر جہاں میں جان جلانا فضول بات

عشق بتاں میں سوز دل و چشم نم غلط

کب منزل سکوں سے وہ ہو پائے آشنا

اٹھیں رہ حیات میں جس کے قدم غلط