Tuesday, 27 October 2026

کیا اگاؤں گا زمیں درد کی بنجر لے کر

 کیا اُگاؤں گا زمیں درد کی بنجر لے کر

میں بھلا جاؤں کہاں ایسا مقدر لے کر

کتنا نادان ہے انسان زمانے بھر میں

پُوجتا رہتا ہے بھگوان کو پتھر لے کر

چاک کرتی ہے اُجالوں کے مقدر کو سدا

تِیرہ بختی ہے مِری ہاتھ میں خنجر لے کر

کون نِکلا ہے یہ سانسوں کی تحفظ کے لیے

دل میں طُغیانی و آنکھوں میں سمندر لے کر

جانے کیوں ایسے گُزرتے ہیں شب و روز یہاں

کسی وِیرانے کے سناٹوں کا منظر لے کر

اب خیالوں کی نزاکت سے تجھے بَیر نہ ہو

کیسے بھُلاؤں تجھے لفظوں کا دفتر لے کر

خضر بھی رشک کرے میرے مقدر پہ اثر

ایسا آ جاتا کوئی بختِ سکندر لے کر


اثر سعید

No comments:

Post a Comment