Showing posts with label جمشید امام. Show all posts
Showing posts with label جمشید امام. Show all posts

Wednesday, 5 November 2025

زخم جب تک زباں نہیں ہوتے

 زخم جب تک زباں نہیں ہوتے 

وہ میرے مہرباں نہیں ہوتے 

دوستی ہے یا دشمنی تم سے 

ہم کبھی درمیاں نہیں ہوتے

مل کے بچھڑا تو اس میں حیرت کیا

حادثے ہیں، کہاں نہیں ہوتے؟

Wednesday, 21 August 2024

جو بھی تلوار تک نہیں پہنچا

 جو بھی تلوار تک نہیں پہنچا 

میرے معیار تک نہیں پہنچا

برسوں پہلے مکاں کا سوچا تھا 

ایک دیوار تک نہیں پہنچا 

میری منصور سی طبیعت ہے 

میں یونہی دار تک نہیں پہنچا

Sunday, 18 August 2024

ظلم ہوتا ہے تو زنجیر ہلا دیتا ہوں

 ظُلم ہوتا ہے تو زنجیر ہلا دیتا ہوں 

نیند سے ظِل الہیٰ کو جگا دیتا ہوں 

مجھ کو تاریخ سے نِسبت ہے تو بس اتنی ہے

روز بچوں کو نیا جھُوٹ سنا دیتا ہوں 

آج بھی چھیڑ کے تقسیم کا خُونی قصہ 

اپنے ماں باپ کو اکثر میں رُلا دیتا ہوں