زخم جب تک زباں نہیں ہوتے
وہ میرے مہرباں نہیں ہوتے
دوستی ہے یا دشمنی تم سے
ہم کبھی درمیاں نہیں ہوتے
مل کے بچھڑا تو اس میں حیرت کیا
حادثے ہیں، کہاں نہیں ہوتے؟
زخم جب تک زباں نہیں ہوتے
وہ میرے مہرباں نہیں ہوتے
دوستی ہے یا دشمنی تم سے
ہم کبھی درمیاں نہیں ہوتے
مل کے بچھڑا تو اس میں حیرت کیا
حادثے ہیں، کہاں نہیں ہوتے؟
جو بھی تلوار تک نہیں پہنچا
میرے معیار تک نہیں پہنچا
برسوں پہلے مکاں کا سوچا تھا
ایک دیوار تک نہیں پہنچا
میری منصور سی طبیعت ہے
میں یونہی دار تک نہیں پہنچا
ظُلم ہوتا ہے تو زنجیر ہلا دیتا ہوں
نیند سے ظِل الہیٰ کو جگا دیتا ہوں
مجھ کو تاریخ سے نِسبت ہے تو بس اتنی ہے
روز بچوں کو نیا جھُوٹ سنا دیتا ہوں
آج بھی چھیڑ کے تقسیم کا خُونی قصہ
اپنے ماں باپ کو اکثر میں رُلا دیتا ہوں