Showing posts with label صفی لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label صفی لکھنوی. Show all posts

Friday, 16 July 2021

پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے

 پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے

مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے

اس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو

نا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے

کشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحلِ مراد

دھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے

Wednesday, 29 July 2020

مریض عشق کا کیا ہے جیا جیا نہ جیا

مریضِ عشق کا کیا ہے جیا، جیا، نہ جیا
ہے ایک سانس کا جھگڑا لیا، لیا، نہ لیا
بدن" ہی آج، اگر "تار تار" ہے میرا"
تو ایک چاکِ گریباں سیا، سیا، نہ سیا
یہ اور بات کہ، تُو ہر راہِ خیال میں ہے
کہ تیرا نام زباں سے لیا، لیا، نہ لیا

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے
شبِ فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دَم نکلتا ہے
الٰہی خیر ہو الجھن پہ الجھن بڑھتی جاتی ہے
نہ میرا دَم نہ ان کے گیسوؤں کا خم نکلتا ہے
قیامت ہی نہ ہو جاۓ جو پردے سے نکل آؤ
تمہارے منہ چھپانے میں تو یہ عالم نکلتا ہے

Wednesday, 21 December 2016

گہوارہِ مرقد بھی صفی کام نہ آیا

گہوارۂ مرقد بھی صفی کام نہ آیا
آرام نہ آیا،۔ مجھے آرام نہ آیا
خورشید پہ موقوف نہیں سامنے تیرے
وہ کون ہے جو لرزہ بر اندام نہ آیا
صد شکر کہ پوچھا تو حشر میں مجھ سے
قاتل کا مگر یاد مجھے نام نہ آیا

پا لیا جو پانا تھا کیا بتائیں کیا پایا

پا لیا جو پانا تھا،۔ کیا بتائیں کیا پایا
نقدِ ناروا پایا،۔ بختِ نارسا پایا
دلربا نے دل پایا، دل نے دلربا پایا
کھو کے دل یہ خوش ہیں ہم جیسے کچھ پڑا پایا
ضبط کی کوئی حد ہے،۔ انتہا تحمل کا
غم نے دل کو جب چھیڑا سازِ بے صدا پایا

کھینچ لو سینہ مجروح سے پیکاں اپنا

کھینچ لو سینۂ مجروح سے پیکاں اپنا
دیکھ لوں دل سے نکلتے ہوئے ارماں اپنا
ہے یہی ضعف تو اے دستِ جنوں کیا حاصل
ہاتھ پہنچا بھی اگر تا بہ گریباں اپنا
ٹھوکریں کھاتے مِرے ساتھ کہاں چلئے گا
راستہ لیجئے اے خضرِ بیاباں اپنا

مہربان تو نے وہ انداز نظر چھوڑ دیا

مہربان تُو نے وہ انداز نظر چھوڑ دیا
ہم نے اس واسطے آنا ہی ادھر چھوڑ دیا
ہم نے اے بے خبری! تجھ پہ تو گھر
تُو نے غیروں کا ہمیں دست نگر چھوڑ دیا
چیختے چیختے بلبل نے ذرا دم جو لیا
اک نیا تُو نے شگوفہ گلِ تر چھوڑ دیا

دیدہ اشکبار کیا کہنا

دیدۂ اشکبار کیا کہنا
واہ ابرِ بہار کیا کہنا
حال جنت کا سن چکے واعظ
اب اسے بار بار کیا کہنا
اڑ کے پہنچا کسی کے دامن تک
آج میرا غبار کیا کہنا

Tuesday, 8 March 2016

چارہ سوز جگر کب قرب جانانہ ہوا

چارۂ سوزِ جگر کب قربِ جانانہ ہوا
شمع کے پہلو میں جل کر خاک پروانہ ہوا
ایک قطرہ آبِ نیساں کا صدف کی گود میں
فرضِ حسنِ تربیت سے درِ یک دانہ ہوا
التفاتِ عشق سے بڑھتا رہا القابِ حسن
جان سے جاناں ہوا، جاناں سے جانانہ ہوا

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا

غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا 
ذرا عمرِ رفتہ کو آواز دینا 
قفس لے اڑوں میں، ہوا اب جو سنکے 
مدد اتنی اے بال و پرواز دینا 
نہ خاموش رہنا مِرے ہم صفیرو 
جب آواز دوں، تم بھی آواز دینا 

سوز و گداز عشق کے قابل نہیں رہا

سوز و گدازِ عشق کے قابل نہیں رہا
جس سے فروغِ حسن تھا وہ دل نہیں رہا
اللہ رے بے حجابئ حسنِ نظارہ سوز
پردہ نگاہِ شوق کا حائل نہیں رہا
یوسفؑ کا حسن عشقِ زلیخا کو دے دعا
عودِ شباب اب کوئی مشکل نہیں رہا

مری لحد پہ کوئی سوگوار تک نہ رہا

مِری لحد پہ کوئی سوگوار تک نہ رہا
ہوا چلی کہ چراغِ مزار تک نہ رہا
ہوئے بھی حضرتِ ناصح تو کب کرم فرما
جب اپنے دل پہ ہمیں اختیار تک نہ رہا
جنوں میں ہم نے جہاں کی ہے جادہ فرسائی
وہاں جو دیکھئے اب کوئی خار تک نہ رہا