پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
اس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو
نا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے
کشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحلِ مراد
دھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے
پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے
اس انقلاب کی بھی کوئی حد ہے دوستو
نا آشنا سمجھتے ہیں اب آشنا مجھے
کشتی پہنچ سکے گی یہ تا ساحلِ مراد
دھوکا نہ دے خدا کے لیے نا خدا مجھے