Showing posts with label ندیم مراد​. Show all posts
Showing posts with label ندیم مراد​. Show all posts

Tuesday, 1 February 2022

بہت دنوں کے بعد جو دیکھا اتنا سکوں اور اتنی خوشی

برہا کا گیت​


بہت دنوں کے بعد جو دیکھا اتنا سکوں اور اتنی خوشی​

دکھ اور درد کی کیا اوقات میں آنکھ جھپکنا بھول گئی​

سوچا تھا وہ آئے گا تو لگ کے گلے میں روؤں گی​

سکتا ہو گیا مجھ پہ طاری میں تو بلکنا بھول گئی​

جیسے چھوٹے بچے اپنی ماں کے لئے رو پڑتے ہیں​

ہائے وصل کی بے تابی میں تو رو پڑنا بھول گئی

Friday, 19 November 2021

سچا دکھائی دے کبھی جھوٹا دکھائی دے

 سچا دکھائی دے کبھی جھوٹا دکھائی دے

ہنستا دکھائی دے کبھی روتا دکھائی دے

مجھ کو تو اس کا روپ روپہلا دکھائی دے

امید ہے کہ پھر وہ دوبارہ دکھائی دے

ہونٹوں سے اس کے پھول جھڑیں بات جب کرے

اور گال اس کا روئی کا گالا دکھائی دے

Friday, 12 November 2021

درد بھی دکھتا ہے خوشبو بھی نظر آتی ہے

 درد بھی دِکھتا ہے، خوشبو بھی نظر آتی ہے

دل میں ہو جذبہ تو یہ مٹی بھی نغماتی ہے

مسکراتا ہے ہر اک غنچہ و گل، ہوں جو خفا

ہولے ہولے سے صبا بھی مجھے بہلاتی ہے

یاد رہتا نہیں غم ہائے غریب الوطنی

کُونج جب اُڑتے ہوئے زور سے کُرلاتی ہے

Thursday, 11 November 2021

کرتے رہے خطا پہ خطا بار بار ہم

 کرتے رہے خطا پہ خطا بار بار ہم

الفت میں میں ہو گئے ہیں جنوں آشکار ہم

کُھلنے لگے ریاضِ محبت کے ہم پہ در

روئے تھے آج رات فقط زار زار ہم

نو عمر اتنے جیسے کوئی ادھ کِھلا گلاب

دھول اتنی تجربات کی جیسے غبار ہم

Wednesday, 10 November 2021

شہر کو گھیر لے تاریکی سر شام اب کے

 شہر کو گھیر لے تاریکی سرِ شام اب کے

شہر کا نام تو بس رہ گیا ہے نام اب کے

اپنے ہی گھر میں سکوں ملنا ہے دشوار بہت

جنگلوں میں ہی چلو کرنے کو آرام اب کے

میں نے جنگل جو کہا شہر کو، جگنو بولا

تھا فقط میرا ہی گھر، کرنے کو بدنام اب کے

Sunday, 15 August 2021

تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ تنہائی نہ پوچھ

 تنہا تنہا اتنے تھے دونوں کہ تنہائی نہ پوچھ

کون تھا اس سارے افسانے میں ہرجائی نہ پوچھ

دل ہمارا ہے سمندر، اس کی گہرائی نہ پوچھ

اور اس گہرائی میں کتنی ہے تنہائی نہ پوچھ

ہم نے چاہا تھا تمہیں کہ چاہتے تھے ہم تمہیں

اتنی سی ہی تو خطا تھی، اتنی رسوائی، نہ پوچھ