Wednesday, 10 November 2021

شہر کو گھیر لے تاریکی سر شام اب کے

 شہر کو گھیر لے تاریکی سرِ شام اب کے

شہر کا نام تو بس رہ گیا ہے نام اب کے

اپنے ہی گھر میں سکوں ملنا ہے دشوار بہت

جنگلوں میں ہی چلو کرنے کو آرام اب کے

میں نے جنگل جو کہا شہر کو، جگنو بولا

تھا فقط میرا ہی گھر، کرنے کو بدنام اب کے

ایک کیاری پہ بھٹکتی ہوئی تتلی دیکھی

کہتی تھی شہر کے گل تو ہیں، خوں آشام اب کے

کھیلتے کودتے جن گلیوں میں ہوتے ہیں جواں

ان جوانوں کے ہیں خوں رنگ در و بام اب کے

فاختاؤں سے جو پوچھا تو وہ یوں گویا ہوئیں

امن کی آشا لگے آرزوئے خام اب کے

باندھ کر سر سے کفن گھر سے نکلیے ہر روز

یا تو پھر چل ہی پڑیں اوڑھ کے احرام اب کے

شہر کی بُلبلیں روتے ہوئے کہتی ہیں ندیم

گیت کیا گائیں بسیروں پہ ہے کہرام اب کے


ندیم مراد​

No comments:

Post a Comment