حقیقت غم دل بے نقاب ہوتی ہے
یہ آج کس کی نظر کامیاب ہوتی ہے
گلے سے اُتری کہ آنکھوں سے اُٹھ گئے پردے
عجیب چیز الہیٰ شراب ہوتی ہے
رہے خیال میرے دل کو توڑنے والے
شکستہ دل کی دعا مستجاب ہوتی ہے
حقیقت غم دل بے نقاب ہوتی ہے
یہ آج کس کی نظر کامیاب ہوتی ہے
گلے سے اُتری کہ آنکھوں سے اُٹھ گئے پردے
عجیب چیز الہیٰ شراب ہوتی ہے
رہے خیال میرے دل کو توڑنے والے
شکستہ دل کی دعا مستجاب ہوتی ہے
غم نہ کر جو فرقت میں بسر ہوتی ہے
ظلمتِ شب ہی سے تائیدِ سحر ہوتی ہے
اب نہ آئے کوئی تیر خطا ہو کیوں کر
ہر جفا مجھ پہ بہ عنوانِ دِگر ہوتی ہے
رشک کی آگ میں جلتا ہے تُو اے دل ناحق
حسنِ بے باک کی بے باک نظر ہوتی ہے
انقلاب اور بھی ہیں گردشیں ایام کہ بس
اور بدلے گا نظامِ سحر و شام کہ بس
منزلِ عشق میں ہر گام پہ دشواری ہے
نظر آغاز میں آتا ہے وہ انجام کہ بس
امتحانِ دلِ خود دار مجھے لینا ہے
تُو بھی چیخ اٹھے گی اے گردشِ ایام کہ بس
شادمانی بھی ہے اور غم کی فراوانی بھی ہے
زلف میں سلجھاؤ بھی ہے اور پریشانی بھی ہے
زندگی انسان کی ساحل بھی طغیانی بھی ہے
اشک جیسے آنکھ میں موتی بھی ہے پانی بھی ہے
دیکھیۓ حسنِ تصور کی دو رنگی دیکھیۓ
دل کی بستی میں اندھیرا بھی ہے تابانی بھی ہے
چمکنے والا ہے اب آفتابِ مے خانہ
چلے گا پھر وہی دورِ شرابِ مے خانہ
یہ بے سبب نہیں واعظ کا میکدے میں نزول
یہ پڑھنے آیا ہے شاید کتابِ مے خانہ
پلائے جا ہمیں کہنہ شراب پیرِ مغاں
شباب پر رہے برسوں شرابِ مے خانہ