Showing posts with label ساغر اجمیری. Show all posts
Showing posts with label ساغر اجمیری. Show all posts

Saturday, 4 November 2023

حقیقت غم دل بے نقاب ہوتی ہے

 حقیقت غم دل بے نقاب ہوتی ہے

یہ آج کس کی نظر کامیاب ہوتی ہے

گلے سے اُتری کہ آنکھوں سے اُٹھ گئے پردے

عجیب چیز الہیٰ شراب ہوتی ہے

رہے خیال میرے دل کو توڑنے والے

شکستہ دل کی دعا مستجاب ہوتی ہے

Wednesday, 24 May 2023

غم نہ کر جو فرقت میں بسر ہوتی ہے

 غم نہ کر جو فرقت میں بسر ہوتی ہے

ظلمتِ شب ہی سے تائیدِ سحر ہوتی ہے

اب نہ آئے کوئی تیر خطا ہو کیوں کر

ہر جفا مجھ پہ بہ عنوانِ دِگر ہوتی ہے

رشک کی آگ میں جلتا ہے تُو اے دل ناحق

حسنِ بے باک کی بے باک نظر ہوتی ہے

Tuesday, 23 May 2023

انقلاب اور بھی ہیں گردشیں ایام کہ بس

 انقلاب اور بھی ہیں گردشیں ایام کہ بس

اور بدلے گا نظامِ سحر و شام کہ بس

منزلِ عشق میں ہر گام پہ دشواری ہے

نظر آغاز میں آتا ہے وہ انجام کہ بس

امتحانِ دلِ خود دار مجھے لینا ہے

تُو بھی چیخ اٹھے گی اے گردشِ ایام کہ بس

Monday, 1 March 2021

شادمانی بھی ہے اور غم کی فراوانی بھی ہے

شادمانی بھی ہے اور غم کی فراوانی بھی ہے

زلف میں سلجھاؤ بھی ہے اور پریشانی بھی ہے

زندگی انسان کی ساحل بھی طغیانی بھی ہے

اشک جیسے آنکھ میں موتی بھی ہے پانی بھی ہے

دیکھیۓ حسنِ تصور کی دو رنگی دیکھیۓ

دل کی بستی میں اندھیرا بھی ہے تابانی بھی ہے

Tuesday, 1 December 2020

چمکنے والا ہے اب آفتاب میخانہ

 چمکنے والا ہے اب آفتابِ مے خانہ

چلے گا پھر وہی دورِ شرابِ مے خانہ

یہ بے سبب نہیں واعظ کا میکدے میں نزول

یہ پڑھنے آیا ہے شاید کتابِ مے خانہ

پلائے جا ہمیں کہنہ شراب پیرِ مغاں

شباب پر رہے برسوں شرابِ مے خانہ