Wednesday, 15 July 2026

جہاں بھی تو نے کہا کائنات ٹھہری ہے

 تمہاری زُلف کے سائے میں رات ٹھہری ہے

کہ رنگ و نُور لیے کائنات ٹھہری ہے

نہ اب جنُوں کی تمنّا نہ ہے خرد کی طلب

یہ کس مقام پہ آ کر حیات ٹھہری ہے

نہ پُوچھ کیسے گُزاری ہے زندگی ہم نے

قدم قدم پہ المناک رات ٹھہری ہے

جہاں میں جب بھی نظر کو کہیں سکوں نہ ملا

اُمید گاہِ نظر تیری ذات ٹھہری ہے

بندھے ہیں پیٹ پہ پتھر مگر یہ شان تِری

جہاں بھی تُو نے کہا کائنات ٹھہری ہے

تِرے طُفیل میں یہ بھی جہاں نے دیکھا ہے

کئی برس کے لیے ایک رات ٹھہری ہے

نہ جانے کون سی ہم سے خطا ہوئی اختر

ہمارے قتل کی ہر سمت بات ٹھہری ہے


اختر گوالیاری

No comments:

Post a Comment