میں تمدّن ہوں روایت نہ سمجھ
مجھ کو بوسیدہ عمارت نہ سمجھ
حال نے کھینچے ہیں سب خطِ بدن
عہدِ رفتہ کی عبارت نہ سمجھ
میری مُٹھی میں ہے لمحوں کا نظام
میں صدی ہوں، مجھے ساعت نہ سمجھ
جُزو ہو کر بھی ہوں کُل اپنی جگہ
تُو کسی شے کی شباہت نہ سمجھ
جو مُسلط کرے خُود اپنا مزاج
اے اثر اس کو ذہانت نہ سمجھ
ایم کے اثر
محمد خدادین
No comments:
Post a Comment