حال ابتر اُداس لوگوں کا
کون رہبر اداس لوگوں کا
ہے اُداسی محیط ہر شے پر
درد پیکر اداس لوگوں کا
ایک فِرقہ مجھے زمانے میں
ہے میسّر اداس لوگوں کا
اس میں ڈُوبا جو پھر نہیں اُبھرا
غم سمندر اداس لوگوں کا
خُود بھی تصویر ہو گیا آخر
اک مصوّر اداس لوگوں کا
نارسائی کا کرب مُدت سے
ہے مُقدر اداس لوگوں کا
مُجھ کو ڈر ہے بہا نہ لے جائے
یہ شناور اداس لوگوں کا
بانٹتی ہے کشف زمانے میں
غم برابر اداس لوگوں کا
کشف ناز
No comments:
Post a Comment