Showing posts with label میر حسن. Show all posts
Showing posts with label میر حسن. Show all posts

Wednesday, 20 April 2022

دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے

 دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے

اے عشق پر نہ کوئی تِری راہ میں پڑے

مت پوچھ جورِ غم سے دلِ ناتواں کا حال

بجلی تو دیکھی ہو گی کبھی کاہ میں پڑے

اک دم بھی دیکھ سکتا نہیں ہم کو اس کے پاس

خاک اس فلک کے دیدۂ بدخواہ میں پڑے

Wednesday, 4 January 2017

مجھ سے ہوا نشے میں ہم آغوش آشنا

مجھ سے ہوا نشے میں ہم آغوش آشنا
یا رب اسی طرح رہے بے ہوش آشنا
کم حوصلہ ہیں ہم کو کہاں دید کی نظر
ہے مصلحت جو ہم سے ہی روپوش آشنا
اے نوجوانو! اتنا اکڑتے ہو کیوں کبھی
ہم سے بھی اس جوانی کا تھا جوش آشنا

تڑپے ہے بہت یہ دل افگار ہمارا

تڑپے ہے بہت یہ دلِ افگار ہمارا
آ جائے شتابی کہیں دل دار ہمارا
بیرنگ ہے کچھ آئینہ دل کا یہاں عکس
ہے بو قلموں جلوہ گر یار ہمارا
جذبہ ہے ستم کا کہ کشش مہر کی ہے واں
جاتا ہے جو دل ہو کے یہ ناچار ہمارا

رو رو کے کیا ابتر سب کام مرے دل کا

رو رو کے کیا ابتر سب کام مِرے دل کا
کھویا مِری آنکھوں نے آرام مرے دل کا
آغازِ محبت میں دیکھا تو یہ کچھ دیکھا
کیا جانیۓ کیا ہو گا انجام مرے دل کا
جس دن سے ہوا پیدا اس دن سے ہوا شیدا
دیوانہ و سودائی ہے نام مرے دل کا

وہ پیار اب رہا نہ ترا اور نہ چاہ وہ

وہ پیار اب رہا نہ تِرا اور نہ چاہ وہ
باتیں ہی ایک رہ گئیں کہنے کو آہ وہ
پوچھا جو حال اس نے تو میں اور چپ ہوا
تا ضد میں آ کے لگ ہی پڑے خواہ مخواہ وہ
بے چین ہم کو آپ ہی کرتا ہے ناز سے
رکھتا ہے اور سر پہ ہمارے گناہ وہ

Monday, 2 January 2017

اپنی طرف سے ہم نے تم سے بہت نباہا

اپنی طرف سے ہم نے تم سے بہت نباہا
پر آہ کیجیۓ کیا تم نے ہمیں نہ چاہا
گزری ہے رات مجھ میں اور دل میں طرفہ صحبت
ایدھر تو میں نے کی آہ، اودھر سے وہ کراہا
ان ہی بتوں نے، یہ جو کافر ہیں اس اودھ کے
کعبہ سمجھ کے میرے اس دل کے گھر کو ڈھاہا

گر کیجے رقم کچھ تری وحدت کے بیاں کا

گر کیجے رقم کچھ تِری وحدت کے بیاں کا
تو چاہیے خامہ بھی اسی ایک زباں کا
تُو ہے تو مِری جان و دل و جسم ہے ورنہ
کیسا یہ دل اور کیسا یہ جی اور میں کہاں کا
رکھتے ہیں نہ کچھ نام ہی اپنا نہ نشان ہم
کیا نام و نشان پوچھو ہو بے نام و نشاں کا

Sunday, 25 December 2016

آسان نہ سمجھیو تم نخوت سے پاک ہونا

آسان نہ سمجھیو تم نخوت سے پاک ہونا
اک عمر کھو کے ہم نے سیکھا ہے خاک ہونا
کِھلتا برنگ گُل یہ کب مژدۂ صبا سے
تھا اسکی تیغ سے تو اس دل کو چاک ہونا
کیا جانیۓ کہ باہم کیوں ہمیں اور اس میں
موقوف ہو گیا ہے اب وہ تپاک ہونا

Friday, 11 November 2016

گر عشق سے کچھ مجھ کو سروکار نہ ہوتا

گر عشق سے کچھ مجھ کو سروکار نہ ہوتا
تو خوابِ عدم سے کبھی بیدار نہ ہوتا
یا رب میں کہاں رکھتا تِرا داغِ محبت
پہلو میں اگر میرے دلِ زار نہ ہوتا
دنیا میں تو دیکھا نہ سوائے غم و اندوہ
میں کاش کے اس بزم میں ہشیار نہ ہوتا

عشق کب تک آگ سینہ میں مرے بھڑکائے گا

عشق کب تک آگ سینہ میں مِرے بھڑکائے گا
راکھ تو میں ہو چکا کیا خاک اب سُلگائے گا
لے چلی ہے اب تو قسمت تیرے کوچہ کی طرف
دیکھیے پھر بھی خدا اس طرف ہم کو لائے گا
کر چکے صحرا میں وحشت پھر چکے گلیوں میں ہم
دیکھیے اب کام ہم کو عشق کیا فرمائے گا

Tuesday, 20 September 2016

کیا پوچھتے ہو یارو حال تباہ میرا

کیا پوچھتے ہو یارو! حالِ تباہ میرا
بے مہر ہو گیا ہے وہ رشکِ ماہ میرا
تیری یہ کم نگاہی اور میرا یہ تڑپنا
تُو ہی بتا کہ کیونکر ہو گا نِباہ میرا
سودا ہوا ہے مجھ کو زلفوں کا تیری یاں تک
نشتر لگے تو نکلے لوہو سیاہ میرا

مت پوچھ کہ رحم اس کو مرے حال پہ کب تھا

مت پوچھ کہ رحم اس کو مِرے حال پہ کب تھا
اب کہنے سے کیا فائدہ، جب تھا، کبھی تب تھا
اتنا بھی تو بے چین نہ رکھ دل کو مِرے تُو
آخر یہ وہی دل ہے جو آرام طلب تھا
کیا دل کے لگانے کا سبب پوچھے ہے ہمدم
بے چیز تو البتہ نہیں کچھ تو سبب تھا

Friday, 1 July 2016

جس نے کہ مے عشق سے اک جام نہ پایا

جس نے کہ مۓ عشق سے اِک جام نہ پایا
اس دوڑ میں اس نے تو کبھی نام نہ پایا
ہر ایک ہدایت کی نہایت ہے و لیکن
اس عشق کے آغاز کا انجام نہ پایا
کیا شکوہ کریں کنجِ قفس کا دلِ مضطر
ہم نے تو چمن میں بھی ٹک آرام نہ پایا

پیغام نہ ملنے کا مجھے یار نے بھیجا

پیغام نہ ملنے کا مجھے یار نے بھیجا
تحفہ یہ نیا میرے ستم گار نے بھیجا
تا ہو ترے اطراف میں پھر پھر کے معطر
نکہت کو تِرے یاں گل و گلزار نے بھیجا
ناچار چھپا کبک دری شرم سے جا کر
کہسار میں اس کو تِری رفتار نے بھیجا

دیکھیں گے پھر ان آنکھوں سے ہم روئے یار بھی

دیکھیں  گے پھر ان آنکھوں سے ہم روئے یار بھی
ہووے گا یہ تمام کبھی انتظار بھی
آئینہ ہی کو کب تئیں دکھلاؤ گے جمال
باہر کھڑے ہیں کتنے اور امیدوار بھی
دشمن تو تھے ہی پر تِری اس دوستی میں اب
بے زار ہم سے ہو گئے ہیں دوستدار بھی

Saturday, 18 June 2016

کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں

کہیں جو دل نہ لگاویں تو پھر اداس پھریں
وگر لگاویں تو مشکل کہ بے حواس پھریں
ہمیں بھی ہوئے اجازت کہ شمع رو تجھ پر
پتنگ کی نمط اک دم تو آس پاس پھریں
تِری گلی میں بھلا اتنی تو ہمیں ہو راہ
کہ جب تک اپنا وہاں جی ہو بے ہراس پھریں

سیر ہے تجھ سے مری جان جدھر کو چلیے

سیر ہے تجھ سے مِری جان، جدھر کو چلئے
تُو ہی گر ساتھ نہ ہووے تو کدھر کو چلئے
خواہ کعبہ ہو کہ بت خانہ غرض ہم سے سن
جس طرف دل کی طبیعت ہو، ادھر کو چلئے
زلف تک رخ سے نگہ جاوے نہ اک دن کے سوا
شام کو پہنچئے منزل، جو سحر کو چلئے

آتش غم نے ملک دل پھونک دیا جلا دیا

آتشِ غم نے ملکِ دل پھونک دیا، جلا دیا
باقی جو کچھ کہ رہ گیا اشک نے لے بہا دیا
کہتے تھے ہم کہ روزِ ہجر کہتے ہیں کس کو کیا ہے چیز
ہائے فلک نے سو وہ دن آج ہمیں دِکھا دیا
ایک یہی چراغِ دل جلتا تھا میرے حال پر
آہِ سحر نے میری آہ اس کو بھی اب بجھا دیا

دل خدا جانے کس کے پاس رہا

دل خدا جانے کس کے پاس رہا
ان دنوں جی بہت اداس رہا
کیا مزا مجھ کو وصل میں اس کے
میں رہا بھی تو بے حواس رہا
یوں کھلا، اپنا یہ گلِ امید
کہ سدا دل پہ داغِ یاس رہا

Friday, 11 April 2014

صیاد کی مرضی ہے کہ اب گل کی ہوس میں

صیاد کی مرضی ہے کہ اب گُل کی ہوس میں
نالے نہ کریں مُرغ گرفتارِ قفس میں
ایک وقت میں تھی نالۂ مجنوں سے ہم آواز
اب تک ہے اثر اس لیے آواز جَرَس میں
اِس ملنے سے ہو دل کو بھلا کیونکہ تسلی
ایک بار کہیں چھپ کے ملے لاکھ برس میں