دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے
اے عشق پر نہ کوئی تِری راہ میں پڑے
مت پوچھ جورِ غم سے دلِ ناتواں کا حال
بجلی تو دیکھی ہو گی کبھی کاہ میں پڑے
اک دم بھی دیکھ سکتا نہیں ہم کو اس کے پاس
خاک اس فلک کے دیدۂ بدخواہ میں پڑے
دریا میں ڈوب جاوے کہ یا چاہ میں پڑے
اے عشق پر نہ کوئی تِری راہ میں پڑے
مت پوچھ جورِ غم سے دلِ ناتواں کا حال
بجلی تو دیکھی ہو گی کبھی کاہ میں پڑے
اک دم بھی دیکھ سکتا نہیں ہم کو اس کے پاس
خاک اس فلک کے دیدۂ بدخواہ میں پڑے