اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے
دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے
میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا
آج مجھ کو اسی اُلفت پہ ہنسی آتی ہے
ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں
دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے
اپنی ناکام محبت پہ ہنسی آتی ہے
دل کی بگڑی ہوئی قسمت پہ ہنسی آتی ہے
میں نے سمجھا تھا سہارا جسے اپنے دل کا
آج مجھ کو اسی اُلفت پہ ہنسی آتی ہے
ڈھل گئی جو کسی بے ربط سے افسانے میں
دل کی اس تازہ حقیقت پہ ہنسی آتی ہے
غموں کی دوپہر میں کام آیا
کسی کے ریشمی آنچل کا سایہ
یہ کس نے پھر ہمیں آواز دی ہے
ہمارے غم کدے میں کون آیا
مِری تاریک ہستی میں نہ جانے
چراغ آرزو کس نے جلایا
مایوس زندگی کے سہارے چلے گئے
ٹھکرا کے ہم کو دوست ہمارے چلے گئے
امید و آرزو کی بہاروں کے ساتھ ساتھ
گلزار زندگی کے نظارے چلے گئے
ہر منزل حیات پہ ان کو کیا تلاش
ہر راہ میں ہم ان کو پکارے چلے گئے
پہیلیاں
میری ہی سوچوں میں
کیوں مکڑی نے اتنے جال بنے ہیں
پھولوں جیسی یادوں میں
یہ کانٹوں جیسی چبھن ہے کیونکر
تم مجھ سے میرے خوابوں میں ہر شب
ملنے کیوں آتی ہو