یہی بس کام کرنے میں لگے ہیں
محبت عام کرنے میں لگے ہیں
یہ دل خستہ عمارت بن چکا ہے
اسے نیلام کرنے میں لگے ہیں
یہی تو نیک نامی ہے کہ کچھ لوگ
ہمیں بدنام کرنے میں لگے ہیں
یہی بس کام کرنے میں لگے ہیں
محبت عام کرنے میں لگے ہیں
یہ دل خستہ عمارت بن چکا ہے
اسے نیلام کرنے میں لگے ہیں
یہی تو نیک نامی ہے کہ کچھ لوگ
ہمیں بدنام کرنے میں لگے ہیں
قیصر نہیں غنِیم کا لشکر مِرے خلاف
دراصل ہو گیا ہے مِرا گھر مِرے خلاف
مجھ کو مخالفت کا ہر اک سُو ہے سامنا
جس دن سے ہو گیا ہے وہ کافِر مِرے خلاف
باہر مِرے خلاف نہیں ہے کوئی، مگر
صد حیف ہو گیا مِرا اندر مِرے خلاف
توڑ دی میں نے آخری توبہ
ہائے توبہ مِری، مِری توبہ
خوبصورت گناہ کرتے ہوئے
مجھ کو اچھی نہیں لگی توبہ
اب مِرے سامنے نہ آیا کر
میں نے کی ہے نئی نئی توبہ
ہو جہاں تک بسر، گزارہ کر
دل ہے چھوٹا سا گھر، گزارہ کر
جو میسر ہے اس پہ راضی رہ
شکر کر، شکر کر، گزارہ کر
ایک تو ہی نہیں ہے خانہ بدوش
میں بھی ہوں دربدر، گزارہ کر