Showing posts with label قیصر مسعود. Show all posts
Showing posts with label قیصر مسعود. Show all posts

Saturday, 27 May 2023

یہی بس کام کرنے میں لگے ہیں

 یہی بس کام کرنے میں لگے ہیں

محبت عام کرنے میں لگے ہیں

یہ دل خستہ عمارت بن چکا ہے

اسے نیلام کرنے میں لگے ہیں

یہی تو نیک نامی ہے کہ کچھ لوگ

ہمیں بدنام کرنے میں لگے ہیں

Tuesday, 9 May 2023

قیصر نہیں غنِیم کا لشکر مرے خلاف

 قیصر نہیں غنِیم کا لشکر مِرے خلاف

دراصل ہو گیا ہے مِرا گھر مِرے خلاف

مجھ کو مخالفت کا ہر اک سُو ہے سامنا

جس دن سے ہو گیا ہے وہ کافِر مِرے خلاف

باہر مِرے خلاف نہیں ہے کوئی، مگر

صد حیف ہو گیا مِرا اندر مِرے خلاف

Sunday, 30 May 2021

توڑ دی میں نے آخری توبہ

 توڑ دی میں نے آخری توبہ

ہائے توبہ مِری، مِری توبہ

خوبصورت گناہ کرتے ہوئے

مجھ کو اچھی نہیں لگی توبہ

اب مِرے سامنے نہ آیا کر

میں نے کی ہے نئی نئی توبہ

Saturday, 12 December 2020

ہو جہاں تک بسر گزارہ کر

 ہو جہاں تک بسر، گزارہ کر

دل ہے چھوٹا سا گھر، گزارہ کر

جو میسر ہے اس پہ راضی رہ

شکر کر، شکر کر، گزارہ کر

ایک تو ہی نہیں ہے خانہ بدوش

میں بھی ہوں دربدر، گزارہ کر