ہو جہاں تک بسر، گزارہ کر
دل ہے چھوٹا سا گھر، گزارہ کر
جو میسر ہے اس پہ راضی رہ
شکر کر، شکر کر، گزارہ کر
ایک تو ہی نہیں ہے خانہ بدوش
میں بھی ہوں دربدر، گزارہ کر
شر پسندوں کے ساتھ رہتے ہوئے
سیکھ لے کوئی شر، گزارہ کر
میرے ہمراہ چلنے والے سن
رائیگاں ہے سفر، گزارہ کر
یہ گزارے کا ہے مقام، یہاں
اور کچھ بھی نہ کر، گزارہ کر
حسن فانی ہے، اس کی حسرت میں
اس قدر بھی نہ مر، گزارہ کر
آتے آتے ہی آئے گا قیصر
شاعری کا ہنر، گزارہ کر
قیصر مسعود
No comments:
Post a Comment