آنکھ میں پھیلے کاجل کی مجبوری سمجھا کر
اے دل! پہلے بات ہماری پوری سمجھا کر
قربت کا مفہوم یہی ہے دوسرے لفظوں میں
بال برابر دوری کو بھی دوری سمجھا کر
مفت میں مت بیکار سمجھ ہم فارغ لوگوں کو
سانسوں کی ترسیل کو بھی مزدوری سمجھا کر
آنکھ میں پھیلے کاجل کی مجبوری سمجھا کر
اے دل! پہلے بات ہماری پوری سمجھا کر
قربت کا مفہوم یہی ہے دوسرے لفظوں میں
بال برابر دوری کو بھی دوری سمجھا کر
مفت میں مت بیکار سمجھ ہم فارغ لوگوں کو
سانسوں کی ترسیل کو بھی مزدوری سمجھا کر
آنسو ہیں، آنسوؤں کے ستارے بناؤں گا
دریا کو خشک کر کے کنارے بناؤں گا
چھتری بنے کھڑے ہو مِرے سر پہ دھوپ میں
پیڑو! تمہارے واسطے آرے بناؤں گا
احباب اور سانپ تسلی سے رہ سکیں
میں اپنی آستیں میں پٹارے بناؤں گا
اگر تم ساتھ ہوتے تو جوانی روک لیتے ہم
جہاں تم تھے وہیں پر یہ کہانی روک لیتے ہم
عداوت کے بھی تو اپنے ادب آداب ہوتے ہیں
کسی دشمن کا بھی پھر کیسے پانی روک لیتے ہم
تکلف کیوں کیا سارے کا سارا لکھنے پڑھنے کا
کہیں اس جانے والے کو زبانی روک لیتے ہم
اونے پونے میں زمانہ تھا خریدار میرا
اس لیے مندا رہا آج بھی بازار میرا
اک خوشی دوڑ رہی ہے میرے آگے آگے
پیچھا کرتا ہے کوئی خوف لگاتار میرا
میں نہ کچھوا ہوں نہ خرگوش حقیقت یہ ہے
اس کہانی میں نہیں کوئی بھی کردار میرا
تمام عمر گزاری ہے خیر میں نے بھی
کبھی نہ لگنے دئیے اپنے پیر میں نے بھی
تمہارے غیر سمجھنے کی دیر تھی، پھر کیا
خود اپنے آپ کو سمجھا ہے غیر میں نے بھی
بس اپنے حلقۂ احباب کی حمایت میں
پھر اپنے ساتھ کمایا ہے بَیر میں نے بھی
بالکل نئی کہانی لکھ کر بیٹھا ہوں
میں پانی پر پانی لکھ کر بیٹھا ہوں
کاغذ قلم دوات سنبھال کے بستے میں
پوری بات زبانی لکھ کر بیٹھا ہوں
مجنوں کی اس مجنونانہ حرکت کو
صحرا میں قربانی لکھ کر بیٹھا ہوں
رنگ خوشبوں گلاب کاغذ پر
دل کا سارا حساب کاغذ پر
ایک کچا گھڑا بناتے ہوئے
گڑ پڑا تھا چناب کاغذ پر
کورا رہنے نہیں دیا اس کو
لکھ کے کورا جواب کاغذ پر
رزمیہ/ملی کلام
دھرتی ماں ہم تیرے بیٹے
سروں پہ اپنے کفن لپیٹے
ہر مشکل سر کرسکتے ہیں
دنیا بھر کی سب خوشیوں سے
تیرا دامن بھر سکتے ہیں
تیری خاطر جی سکتے ہیں
کوئی تہمت کوئی الزام بھی آ سکتا ہے
اس کی جانب سے یہ پیغام بھی آ سکتا ہے
سانس کی پھانس نکل سکتی ہے اس سینے سے
تیرے بیمار کو آرام بھی آ سکتا ہے
انتظار اس کا اسی شام پہ موقوف نہیں
صبح کا بھولا کسی شام بھی آ سکتا ہے
جو کچھ کیا تھا اس کی تلافی بھی کیجئے
وعدہ کیا تھا وعدہ خلافی بھی کیجئے
الزام سب کے سب ہیں وہی حسبِ سابقہ
اپنی طرف سے کچھ تو اضافی بھی کیجئے
کتنے کیے ہیں وقت کے ہاتھوں میں کھیل کر
کچھ کام مصلحت کے منافی بھی کیجئے
جرأت اور بے باکی بھی ہو سکتی ہے
یہ اس کی چالاکی بھی ہو سکتی ہے
ایک مصیبت ہے یہ بد پرہیزی بھی
دوسری خوش خوراکی بھی ہو سکتی ہے
ہم تو خیر ہیں شاکی پہلے دن سے ہی
قسمت ہم سے شاکی بھی ہو سکتی ہے
موسمِ گل میں خس و خار سے الجھا ہوا ہوں
میں وہ رستہ ہوں جو دیوار سے الجھا ہوا ہوں
وقت سے آگے نکلنے کی ہے یہ دوڑ یہاں
اور میں وقت کی رفتار سے الجھا ہوا ہوں
عین ممکن ہے یہ اقرار کی تمہید میں ہو
کس لیے میں ترے انکار سے الجھا ہوا ہوں
وہیں باتیں پرانی کر رہا ہوں
میں پتھر پانی پانی کر رہا ہوں
چراغِ آخرِ شب ہوں مگر میں
ہواسے چھیڑ خانی کر رہا ہوں
وہ خنجر کی طرح دل میں لگی ہے
میں جس کو آنی جانی کر رہا ہوں
مجھ کو مرے خلاف کِیا اور چل دیا
اس نے یہ اعتراف کیا اور چل دیا
میں نے کہا فقیر کو؛ بابا معاف کر
اس نے مجھے معاف کیا اور چل دیا
در پردہ اختلاف تو سب نے کیا مگر
اس نے یہ واشگاف کیا اور چل دیا