Showing posts with label مسعود احمد. Show all posts
Showing posts with label مسعود احمد. Show all posts

Wednesday, 2 August 2023

آنکھ میں پھیلے کاجل کی مجبوری سمجھا کر

 آنکھ میں پھیلے کاجل کی مجبوری سمجھا کر

اے دل! پہلے بات ہماری پوری سمجھا کر

قربت کا مفہوم یہی ہے دوسرے لفظوں میں

بال برابر دوری کو بھی دوری سمجھا کر

مفت میں مت بیکار سمجھ ہم فارغ لوگوں کو

سانسوں کی ترسیل کو بھی مزدوری سمجھا کر

Monday, 7 March 2022

آنسو ہیں آنسوؤں کے ستارے بناؤں گا

 آنسو ہیں، آنسوؤں کے ستارے بناؤں گا

دریا کو خشک کر کے کنارے بناؤں گا

چھتری بنے کھڑے ہو مِرے سر پہ دھوپ میں

پیڑو! تمہارے واسطے آرے بناؤں گا

احباب اور سانپ تسلی سے رہ سکیں

میں اپنی آستیں میں پٹارے بناؤں گا

Wednesday, 2 February 2022

اگر تم ساتھ ہوتے تو جوانی روک لیتے ہم

 اگر تم ساتھ ہوتے تو جوانی روک لیتے ہم

جہاں تم تھے وہیں پر یہ کہانی روک لیتے ہم

عداوت کے بھی تو اپنے ادب آداب ہوتے ہیں

کسی دشمن کا بھی پھر کیسے پانی روک لیتے ہم

تکلف کیوں کیا سارے کا سارا لکھنے پڑھنے کا

کہیں اس جانے والے کو زبانی روک لیتے ہم

Saturday, 27 February 2021

اونے پونے میں زمانہ تھا خریدار میرا

 اونے پونے میں زمانہ تھا خریدار میرا

اس لیے مندا رہا آج بھی بازار میرا

اک خوشی دوڑ رہی ہے میرے آگے آگے

پیچھا کرتا ہے کوئی خوف لگاتار میرا

میں نہ کچھوا ہوں نہ خرگوش حقیقت یہ ہے

اس کہانی میں نہیں کوئی بھی کردار میرا

Friday, 26 February 2021

تمام عمر گزاری ہے خیر میں نے بھی

 تمام عمر گزاری ہے خیر میں نے بھی

کبھی نہ لگنے دئیے اپنے پیر میں نے بھی

تمہارے غیر سمجھنے کی دیر تھی، پھر کیا

خود اپنے آپ کو سمجھا ہے غیر میں نے بھی

بس اپنے حلقۂ احباب کی حمایت میں

پھر اپنے ساتھ کمایا ہے بَیر میں نے بھی

Monday, 25 January 2021

بالکل نئی کہانی لکھ کر بیٹھا ہوں

 بالکل نئی کہانی لکھ کر بیٹھا ہوں

میں پانی پر پانی لکھ کر بیٹھا ہوں

کاغذ قلم دوات سنبھال کے بستے میں

پوری بات زبانی لکھ کر بیٹھا ہوں

مجنوں کی اس مجنونانہ حرکت کو

صحرا میں قربانی لکھ کر بیٹھا ہوں

Friday, 15 January 2021

رنگ خوشبوں گلاب کاغذ پر

 رنگ خوشبوں گلاب کاغذ پر

دل کا سارا حساب کاغذ پر

ایک کچا گھڑا بناتے ہوئے

گڑ پڑا تھا چناب کاغذ پر

کورا رہنے نہیں دیا اس کو

لکھ کے کورا جواب کاغذ پر

Wednesday, 13 January 2021

دھرتی ماں ہم تیرے بیٹے

رزمیہ/ملی کلام


دھرتی ماں ہم تیرے بیٹے

سروں پہ اپنے کفن لپیٹے

ہر مشکل سر کرسکتے ہیں

دنیا بھر کی سب خوشیوں سے

تیرا دامن بھر سکتے ہیں

تیری خاطر جی سکتے ہیں

Tuesday, 12 January 2021

کوئی تہمت کوئی الزام بھی آ سکتا ہے

 کوئی تہمت کوئی الزام بھی آ سکتا ہے

اس کی جانب سے یہ پیغام بھی آ سکتا ہے

سانس کی پھانس نکل سکتی ہے اس سینے سے

تیرے بیمار کو آرام بھی آ سکتا ہے

انتظار اس کا اسی شام پہ موقوف نہیں

صبح کا بھولا کسی شام بھی آ سکتا ہے

Monday, 11 January 2021

جو کچھ کیا تھا اس کی تلافی بھی کیجئے

 جو کچھ کیا تھا اس کی تلافی بھی کیجئے

وعدہ کیا تھا وعدہ خلافی بھی کیجئے

الزام سب کے سب ہیں وہی حسبِ سابقہ

اپنی طرف سے کچھ تو اضافی بھی کیجئے

کتنے کیے ہیں وقت کے ہاتھوں میں کھیل کر

کچھ کام مصلحت کے منافی بھی کیجئے

جرأت اور بے باکی بھی ہو سکتی ہے

 جرأت اور بے باکی بھی ہو سکتی ہے

یہ اس کی چالاکی بھی ہو سکتی ہے

ایک مصیبت ہے یہ بد پرہیزی بھی

دوسری خوش خوراکی بھی ہو سکتی ہے

ہم تو خیر ہیں شاکی پہلے دن سے ہی

قسمت ہم سے شاکی بھی ہو سکتی ہے

Saturday, 12 December 2020

موسم گل میں خس و خار سے الجھا ہوا ہوں

 موسمِ گل میں خس و خار سے الجھا ہوا ہوں

میں وہ رستہ ہوں جو دیوار سے الجھا ہوا ہوں

وقت سے آگے نکلنے کی ہے یہ دوڑ یہاں

اور میں وقت کی رفتار سے الجھا ہوا ہوں

عین ممکن ہے یہ اقرار کی تمہید میں ہو

کس لیے میں ترے انکار سے الجھا ہوا ہوں

وہیں باتیں پرانی کر رہا ہوں

 وہیں باتیں پرانی کر رہا ہوں

میں پتھر پانی پانی کر رہا ہوں

چراغِ آخرِ شب ہوں مگر میں

ہواسے چھیڑ خانی کر رہا ہوں

وہ خنجر کی طرح دل میں لگی ہے

میں جس کو آنی جانی کر رہا ہوں

مجھ کو مرے خلاف کیا اور چل دیا

 مجھ کو مرے خلاف کِیا اور چل دیا

اس نے یہ اعتراف کیا اور چل دیا

میں نے کہا فقیر کو؛ بابا معاف کر

اس نے مجھے معاف کیا اور چل دیا

در پردہ اختلاف تو سب نے کیا مگر

اس نے یہ واشگاف کیا اور چل دیا