تِرے فِراق کے قِصے تِرے وِصال کے دُکھ
بھُلا نہ پائے ہم اب تک وہ ماہ و سال کے دکھ
تِرے بغیر ہمیں زندگی سے کیا لینا
یہی بہت ہے جو کٹ جائیں تجھ کمال کے دکھ
حوا کی بیٹی ہوئی قتل بھائی کے ہاتھوں
کوئی نہ سمجھے گا ہیروں کے ماہیوال کے دکھ
وہ بچپنا وہ محبت بھُلائے کب ہم نے
وہ سُوکھے پھُول تِرے خط اور اس رومال کے دکھ
رہے ہیں آج تلک یہ مِرے تعاقب میں
تیرے عُروج کی باتیں میرے زوال کے دکھ
تمہاری زیست میں شاکر کمی رہے گی سدا
کبھی بدیس کے دھکے کبھی نہال کے دکھ
محمد عثمان شاکر
No comments:
Post a Comment