Showing posts with label فوزیہ مغل. Show all posts
Showing posts with label فوزیہ مغل. Show all posts

Wednesday, 11 August 2021

حضرت زینب کی پاکیزہ چادر کا سایا

عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی زینب


 حضرتِ زینبؑ کی پاکیزہ چادر کا سایا

تا حشر رہے عالمِ اسلام پہ چھایا

زینبؑ نے رکھا ہے بھرم نانا رسولؐ کا

دامانِ صبر چھوڑا نہ دامن اصول کا

چادر بنی زینبؑ کی بھی توحید کا علم

بازو بھی ہو گئے جہاں عباسؑ کے قلم

کیسے عیب تھے وہ نظارے فرات کے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام و شہدائے کربلا


 کیسے عیب تھے وہ نظارے فرات کے

پیاسے تھے اہلِ بیعت کنارے فرات کے

ہوا شہید اصغرِ کم سِن تشنہ لب

پیاسی رہی سکینہ کنارے فرات کے

ہے یاد گار تابہ ابد دِین کے لیے

سجدہ تِرا حسین کنارے فرات کے

Wednesday, 7 July 2021

واسطہ ہم سے تو پہلے ہی وہ کم رکھتے ہیں

 واسطہ ہم سے تو پہلے ہی وہ کم رکھتے ہیں

وہ ہمیں ہیں جو محبت کا بھرم رکھتے ہیں

کھول دیں بھید ہمارے نہ کسی دن آنکھیں

اس لیے جان کے ہم آنکھوں کو نم رکھتے ہیں

میں ادا بند نہیں، پر یہ سنا ہے میں نے

وہ ادا خاص ہے جو میرے صنم رکھتے ہیں

Tuesday, 6 July 2021

کوئی دل بھی نفرت سے خالی نہیں ہے

 کوئی دل بھی نفرت سے خالی نہیں ہے

خدا! تیری دنیا مثالی نہیں ہے

اذانوں کی رسمیں ادا ہو رہی ہیں

مگر ان میں جوشِ بلالی نہیں ہے

میرے عہد کے عالموں کی نہ پوچھو

کوئی بھی تو ان میں غزالی نہیں ہے

Sunday, 4 July 2021

میں رنگوں میں ہوں کبھی برش میں کبھی کینوس پہ

 میں تو اپنی منزل آپ ہوں


میں رنگوں میں ہوں کبھی برش میں

کبھی کینوس پہ سجی ہوں میں

قوس و قزاح ہوں حروف کی

الفاظ کی اک لڑی ہوں میں

مجھےخود بھی اپنا پتا نہیں

گفتار میں وہ اپنی بے باک ہو گیا ہے

 گفتار میں وہ اپنی بے باک ہو گیا ہے

جیسے کہ ہر کمی سے وہ پاک ہو گیا ہے

آنکھوں کی پُتلیوں میں ٹھہرا وہی ہے منظر

جس سے کہ دل ہمارا صد چاک ہو گیا ہے

رکھنا پڑے گا پھر بھی ہم کو بھرم وفا کا

مانا کہ جلتے جلتے دل خاک ہو گیا ہے

Friday, 2 July 2021

راز دل کا بتا کے پچھتائے

 راز دل کا بتا کے پچھتائے

ان کی باتوں میں آ کے پچھتائے

حال پوچھا نہ زندگی میں کبھی

خاک میں وہ ملا کے پچھتائے

کوئی اپنا نظر نہیں آیا

ان کی محفل میں جا کے پچھتائے

نہ میں خیال میں تیرے نہ میں گمان میں ہوں

 نہ میں خیال میں تیرے نہ میں گمان میں ہوں

یقین دل کو نہیں ہے کہ اس جہان میں ہوں

خدایا رکھے گا دنیا میں سرفراز مجھے

میں پہلے عشق کے پہلے ہی امتحان میں ہوں

وہ جس کو دیکھ کے بچے بھی سارے چھوڑ گئے

میں ایک ٹوٹا کھلونا کسی دوکان میں ہوں

ماں ہوا نصیب تجھے ڈھائی گز کا مکاں

 ماں کی وداعی


ماں ہوا نصیب تجھے ڈھائی گز کا مکاں

چھت مل گئی ہے دیکھ چھپانے کو اپنا سر

باپ کی ملکیّت ہے نہ بھائیوں کا ڈر

شوہر کا ہے مکاں نہ بیٹے کا درد سر

دنیا کے سارے رشتے وفا سے نبھا گئی

ربِ کریم کو ادا تیری یہ بھا گئی

Monday, 26 April 2021

تم سے مل کر یہ لگا خود سے ملاقات ہوئی

 تم سے مل کر یہ لگا خود سے ملاقات ہوئی

آج یہ بابِ محبت میں نئی بات ہوئی

اب نہ پہلی سی توجہ نہ وہ پہلا سا سلوک

ختم اب جیسے ہر اک رسمِ مراعات ہوئی

چَھٹ گئے سر سے مِرے رنج و الم کے بادل

رات بھر آنکھوں سے اشکوں کی وہ برسات ہوئی

Thursday, 22 April 2021

دے گئی لذت میری تنہائی کی عادت مجھے

 دے گئی لذت میری تنہائی کی عادت مجھے

اب شکایت ہے کسی سے اور نہ ہے وحشت مجھے

کھوج میں اپنی نکلنے کا سفر اچھا لگا

لمحہ لمحہ خود کو پانے میں ملی راحت مجھے

میری اپنی زندگی ہے داستاں در داستاں

قصے اوروں کے پڑھوں میں اب کہاں فُرصت مجھے

Wednesday, 21 April 2021

عشق تو میٹھا زہر ہے سائیں

 عشق تو میٹھا زہر ہے سائیں

دشمن اس کا دہر ہے سائیں

بچ نہ سکا ہے کوئی جس سے

عشق کی ایسی لہر ہے سائیں

پیار کہاں سے تم پاؤ گے؟

سب کے دل میں قہر ہے سائیں

لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم

 لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم

بھُلا سکو گی نہ جس کو بھُلا رہی ہو تم

تمہارے دل میں یہ کس کا خیال رہتا ہے

وہ بات کیا ہے جو سب سے چھُپا رہی ہو تم

سُلگ رہی ہو خموشی کی آگ میں تنہا

یہ کیسا وعدہ ہے جس کو نِبھا رہی ہو تم

Sunday, 28 February 2021

راز دل کا بتا کے پچھتائے

 راز دل کا بتا کے پچھتائے

ان کی باتوں میں آ کے پچھتائے

حال پوچھا نہ زندگی میں کبھی

خاک میں وہ ملا کے پچھتائے

کوئی اپنا نظر نہیں آیا

ان کی محفل میں جا کے پچھتائے