عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی زینب
حضرتِ زینبؑ کی پاکیزہ چادر کا سایا
تا حشر رہے عالمِ اسلام پہ چھایا
زینبؑ نے رکھا ہے بھرم نانا رسولؐ کا
دامانِ صبر چھوڑا نہ دامن اصول کا
چادر بنی زینبؑ کی بھی توحید کا علم
بازو بھی ہو گئے جہاں عباسؑ کے قلم
عارفانہ کلام منقبت سلام بر بی بی زینب
حضرتِ زینبؑ کی پاکیزہ چادر کا سایا
تا حشر رہے عالمِ اسلام پہ چھایا
زینبؑ نے رکھا ہے بھرم نانا رسولؐ کا
دامانِ صبر چھوڑا نہ دامن اصول کا
چادر بنی زینبؑ کی بھی توحید کا علم
بازو بھی ہو گئے جہاں عباسؑ کے قلم
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام و شہدائے کربلا
کیسے عیب تھے وہ نظارے فرات کے
پیاسے تھے اہلِ بیعت کنارے فرات کے
ہوا شہید اصغرِ کم سِن تشنہ لب
پیاسی رہی سکینہ کنارے فرات کے
ہے یاد گار تابہ ابد دِین کے لیے
سجدہ تِرا حسین کنارے فرات کے
واسطہ ہم سے تو پہلے ہی وہ کم رکھتے ہیں
وہ ہمیں ہیں جو محبت کا بھرم رکھتے ہیں
کھول دیں بھید ہمارے نہ کسی دن آنکھیں
اس لیے جان کے ہم آنکھوں کو نم رکھتے ہیں
میں ادا بند نہیں، پر یہ سنا ہے میں نے
وہ ادا خاص ہے جو میرے صنم رکھتے ہیں
کوئی دل بھی نفرت سے خالی نہیں ہے
خدا! تیری دنیا مثالی نہیں ہے
اذانوں کی رسمیں ادا ہو رہی ہیں
مگر ان میں جوشِ بلالی نہیں ہے
میرے عہد کے عالموں کی نہ پوچھو
کوئی بھی تو ان میں غزالی نہیں ہے
میں تو اپنی منزل آپ ہوں
میں رنگوں میں ہوں کبھی برش میں
کبھی کینوس پہ سجی ہوں میں
قوس و قزاح ہوں حروف کی
الفاظ کی اک لڑی ہوں میں
مجھےخود بھی اپنا پتا نہیں
گفتار میں وہ اپنی بے باک ہو گیا ہے
جیسے کہ ہر کمی سے وہ پاک ہو گیا ہے
آنکھوں کی پُتلیوں میں ٹھہرا وہی ہے منظر
جس سے کہ دل ہمارا صد چاک ہو گیا ہے
رکھنا پڑے گا پھر بھی ہم کو بھرم وفا کا
مانا کہ جلتے جلتے دل خاک ہو گیا ہے
راز دل کا بتا کے پچھتائے
ان کی باتوں میں آ کے پچھتائے
حال پوچھا نہ زندگی میں کبھی
خاک میں وہ ملا کے پچھتائے
کوئی اپنا نظر نہیں آیا
ان کی محفل میں جا کے پچھتائے
نہ میں خیال میں تیرے نہ میں گمان میں ہوں
یقین دل کو نہیں ہے کہ اس جہان میں ہوں
خدایا رکھے گا دنیا میں سرفراز مجھے
میں پہلے عشق کے پہلے ہی امتحان میں ہوں
وہ جس کو دیکھ کے بچے بھی سارے چھوڑ گئے
میں ایک ٹوٹا کھلونا کسی دوکان میں ہوں
ماں کی وداعی
ماں ہوا نصیب تجھے ڈھائی گز کا مکاں
چھت مل گئی ہے دیکھ چھپانے کو اپنا سر
باپ کی ملکیّت ہے نہ بھائیوں کا ڈر
شوہر کا ہے مکاں نہ بیٹے کا درد سر
دنیا کے سارے رشتے وفا سے نبھا گئی
ربِ کریم کو ادا تیری یہ بھا گئی
تم سے مل کر یہ لگا خود سے ملاقات ہوئی
آج یہ بابِ محبت میں نئی بات ہوئی
اب نہ پہلی سی توجہ نہ وہ پہلا سا سلوک
ختم اب جیسے ہر اک رسمِ مراعات ہوئی
چَھٹ گئے سر سے مِرے رنج و الم کے بادل
رات بھر آنکھوں سے اشکوں کی وہ برسات ہوئی
دے گئی لذت میری تنہائی کی عادت مجھے
اب شکایت ہے کسی سے اور نہ ہے وحشت مجھے
کھوج میں اپنی نکلنے کا سفر اچھا لگا
لمحہ لمحہ خود کو پانے میں ملی راحت مجھے
میری اپنی زندگی ہے داستاں در داستاں
قصے اوروں کے پڑھوں میں اب کہاں فُرصت مجھے
عشق تو میٹھا زہر ہے سائیں
دشمن اس کا دہر ہے سائیں
بچ نہ سکا ہے کوئی جس سے
عشق کی ایسی لہر ہے سائیں
پیار کہاں سے تم پاؤ گے؟
سب کے دل میں قہر ہے سائیں
لمحہ لمحہ جو یہ خود کو مٹا رہی ہو تم
بھُلا سکو گی نہ جس کو بھُلا رہی ہو تم
تمہارے دل میں یہ کس کا خیال رہتا ہے
وہ بات کیا ہے جو سب سے چھُپا رہی ہو تم
سُلگ رہی ہو خموشی کی آگ میں تنہا
یہ کیسا وعدہ ہے جس کو نِبھا رہی ہو تم
راز دل کا بتا کے پچھتائے
ان کی باتوں میں آ کے پچھتائے
حال پوچھا نہ زندگی میں کبھی
خاک میں وہ ملا کے پچھتائے
کوئی اپنا نظر نہیں آیا
ان کی محفل میں جا کے پچھتائے