ماں کی وداعی
ماں ہوا نصیب تجھے ڈھائی گز کا مکاں
چھت مل گئی ہے دیکھ چھپانے کو اپنا سر
باپ کی ملکیّت ہے نہ بھائیوں کا ڈر
شوہر کا ہے مکاں نہ بیٹے کا درد سر
دنیا کے سارے رشتے وفا سے نبھا گئی
ربِ کریم کو ادا تیری یہ بھا گئی
رب نے عطا کیا ہے تجھے مامتا کا روپ
آئی نہ تیرے سائے میں مجھ تک غموں کی دھوپ
بیٹی ہوں میں بھی تِری، تیرا مجھ پہ قرض ہے
لوٹاؤں قرض تیرا یہی مجھ پہ فرض ہے
اے ماں! میں آج تجھ کو جدا کرنے آئی ہوں
تِرے وہ سارے قرضے ادا کرنے آئی ہوں
اے ماں! کہاں سے لاؤں یہ ہمت بتا مجھے
کیسے جدا کروں جنت بتا تجھے
سوہانِ روح بن کے جو آئی ہے جدائی
اب عمر بھر کا رونا ہی لائی ہے جدائی
لاکھ دعائیں دے کے یوں رخصت مجھے کیا
یہ فرض عین بھی تُو نے بھی رو کر نبھا دیا
بدلے میں جان لیوا سی تنہائی بھی ملی
تنہائیوں کو لے کے پھر اک انجمن کیا
دل کو جلا کے اس میں اُجالا بھی بھر دیا
اے پیاری ماں میں آج تجھے کر کے یوں رخصت
محسوس کر رہی ہوں میری چھن گئی جنت
اللہ کا کرم ہو نبیﷺ کی ہو عنایت
روشن ملے گا گھر یہ تیرا روزِ قیامت
دستِ دعا اٹھائے ہوئے روتے دل کے ساتھ
ہوئی آج فوزیہ بھری دنیا میں خالی ہاتھ
فوزیہ مغل
No comments:
Post a Comment