Showing posts with label ظفر کمالی. Show all posts
Showing posts with label ظفر کمالی. Show all posts

Thursday, 18 November 2021

جاننا چاہو اگر کیا ہے مزہ شمشیر میں

 جاننا چاہو اگر کیا ہے مزہ شمشیر میں

آ کے تم بندھ جاؤ پیارے عقد کی زنجیر میں

بوم کے سر پر ہُما کا سایہ دیکھا خواب میں

دیکھیۓ نکلے ہے کیا اس خواب کی تعبیر میں

ہوش کی باتیں بلا سے ہوں نہ ہوں لیکن حضور

جوش ہوتا ہے غضب کا آپ کی تقریر میں

Friday, 12 November 2021

سازشیں تقدیر سے کیں جب مری تدبیر نے

 سازشیں تقدیر سے کیں جب مِری تدبیر نے

تب مجھے قیدی بنایا عقد کی زنجیر نے

حکمراں بھی مجھ سے راضی اور اپوزیشن بھی خوش

وہ سکھایا گُر مجھے میرے سیاسی پیر نے

کچھ ہوئے نارنگئے، کچھ ہو گئے فاروقئے

یہ تماشا بھی دکھایا ہے ادب کی کھیر نے

Monday, 8 November 2021

دماغوں میں جو بیٹھی ہے وہ عیاری نہیں جاتی

 دماغوں میں جو بیٹھی ہے وہ عیاری نہیں جاتی

دوائیں فیل ہو جاتی ہیں،۔ بیماری نہیں جاتی

سرایت کر گئی فرقہ پرستی خوں میں کچھ ایسے 

لگاؤ لاکھ ٹیکا یہ مہا ماری نہیں جاتی

فقط اسٹیج سے کرتے ہیں وہ باتیں محبت کی

اداکاروں کی یہ خوئے اداکاری نہیں جاتی

Sunday, 7 November 2021

اپنی ہستی کا نگہبان سمجھ بیٹھے ہیں

 اپنی ہستی کا نگہبان سمجھ بیٹھے ہیں

مال و دولت کو وہ بھگوان سمجھ بیٹھے ہیں

چال میں ایسی رعونت، کہ الٰہی توبہ

آدمی ہونا بھی آسان سمجھ بیٹھے ہیں

چار پیسے جو ہوئے اپنی حقیقت بُھولے

خود کو وہ حاکم و سلطان سمجھ بیٹھے ہیں

Wednesday, 2 June 2021

کہیں درہم کہیں ڈالر کہیں دینار کا جھگڑا

 کہیں درہم، کہیں ڈالر، کہیں دینار کا جھگڑا

کہیں لہنگا، کہیں چولی، کہیں شلوار کا جھگڑا

وطن میں آج کل اِس ذات سے اُس ذات کو شکوہ

لگا ہونے کہیں اِس پار سے اُس پار کا جھگڑا

وہ مسجد ہو کہ مندر ہو، ادب ہو یا سیاست ہو

وہی ہے جنگ کرسی کی، وہی دستار کا جھگڑا