جاننا چاہو اگر کیا ہے مزہ شمشیر میں
آ کے تم بندھ جاؤ پیارے عقد کی زنجیر میں
بوم کے سر پر ہُما کا سایہ دیکھا خواب میں
دیکھیۓ نکلے ہے کیا اس خواب کی تعبیر میں
ہوش کی باتیں بلا سے ہوں نہ ہوں لیکن حضور
جوش ہوتا ہے غضب کا آپ کی تقریر میں
جاننا چاہو اگر کیا ہے مزہ شمشیر میں
آ کے تم بندھ جاؤ پیارے عقد کی زنجیر میں
بوم کے سر پر ہُما کا سایہ دیکھا خواب میں
دیکھیۓ نکلے ہے کیا اس خواب کی تعبیر میں
ہوش کی باتیں بلا سے ہوں نہ ہوں لیکن حضور
جوش ہوتا ہے غضب کا آپ کی تقریر میں
سازشیں تقدیر سے کیں جب مِری تدبیر نے
تب مجھے قیدی بنایا عقد کی زنجیر نے
حکمراں بھی مجھ سے راضی اور اپوزیشن بھی خوش
وہ سکھایا گُر مجھے میرے سیاسی پیر نے
کچھ ہوئے نارنگئے، کچھ ہو گئے فاروقئے
یہ تماشا بھی دکھایا ہے ادب کی کھیر نے
دماغوں میں جو بیٹھی ہے وہ عیاری نہیں جاتی
دوائیں فیل ہو جاتی ہیں،۔ بیماری نہیں جاتی
سرایت کر گئی فرقہ پرستی خوں میں کچھ ایسے
لگاؤ لاکھ ٹیکا یہ مہا ماری نہیں جاتی
فقط اسٹیج سے کرتے ہیں وہ باتیں محبت کی
اداکاروں کی یہ خوئے اداکاری نہیں جاتی
اپنی ہستی کا نگہبان سمجھ بیٹھے ہیں
مال و دولت کو وہ بھگوان سمجھ بیٹھے ہیں
چال میں ایسی رعونت، کہ الٰہی توبہ
آدمی ہونا بھی آسان سمجھ بیٹھے ہیں
چار پیسے جو ہوئے اپنی حقیقت بُھولے
خود کو وہ حاکم و سلطان سمجھ بیٹھے ہیں
کہیں درہم، کہیں ڈالر، کہیں دینار کا جھگڑا
کہیں لہنگا، کہیں چولی، کہیں شلوار کا جھگڑا
وطن میں آج کل اِس ذات سے اُس ذات کو شکوہ
لگا ہونے کہیں اِس پار سے اُس پار کا جھگڑا
وہ مسجد ہو کہ مندر ہو، ادب ہو یا سیاست ہو
وہی ہے جنگ کرسی کی، وہی دستار کا جھگڑا