Showing posts with label آصف الدولہ. Show all posts
Showing posts with label آصف الدولہ. Show all posts

Monday, 3 July 2023

بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے

 بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے

اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے

زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے

گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے

اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب

میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے

Monday, 12 April 2021

جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

 جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے

ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے

تیرے کُوچے میں نقشِ پا کی طرح

ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے

شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم

ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے

Wednesday, 31 March 2021

جس دن سے یار مجھ سے وہ شوخ آشنا ہوا

 جس دن سے یار مجھ سے وہ شوخ آشنا ہُوا

رُسوا ہوا،۔ خراب ہوا،۔ مُبتلا ہوا

پہلے تو با وفا مجھے دِکھلایا آپ کو

جب دل کو لے چکا تو یہ کچھ بے وفا ہوا

افسوس کیوں کرے ہے ہمیں قتل کر کے تُو

ہم سا جو ایک مر گیا پیارے! تو کیا ہوا

Thursday, 25 March 2021

مرے دل کو زلفوں کی زنجیر کیجو

 مِرے دل کو زلفوں کی زنجیر کیجو

یہ دیوانہ اپنا ہے تدبیر کیجو 

ہمیں قتل ہے یا ہے اب قید ظالم 

جو کچھ تجھ سے ہووے نہ تقصیر کیجو 

مِرے دل نے زلفوں میں مسکن کیا ہے

یہ مہمان ہے، آئے توقیر کیجو 

اس ادا سے مجھے سلام کیا

 اس ادا سے مجھے سلام کیا

ایک ہی آن میں غلام کیا

لے گیا ننگ و نام اب مجھ سے

عشق نے آخر اپنا کام کیا

یارو اس گلبدن کے تئیں ہم نے

کل صبا سے یہی پیام کیا

Wednesday, 24 March 2021

دل دیا جی دیا خفا نہ کیا

 دل دیا، جی دیا، خفا نہ کیا

بیوفا تجھ سے میں نے کیا نہ کیا

غم دوری کو تیری دیکھ کے یار

آج تک جان سے جدا نہ کیا

فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا

کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا

Wednesday, 9 December 2020

ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

 ہم نے قصہ بہت کہا دل کا

نہ سنا تم نے ماجرا دل کا

اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں

ہے نہیں کوئی آشنا دل کا

عشق میں ایسی کھینچی رسوائی

ہو گیا شور جا بجا دل کا