بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے
اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے
زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے
گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے
اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب
میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے
بسمل کسی کو رکھنا رسم وفا نہیں ہے
اور منہ چھپا کے چلنا شرط وفا نہیں ہے
زلفوں کو شانہ کیجے یا بھوں بنا کے چلیے
گر پاس دل نہ رکھیے تو یہ ادا نہیں ہے
اک روز وہ ستم گر مجھ سے ہوا مخاطب
میں نے کہا کہ پیارے اب یہ روا نہیں ہے
جس گھڑی تیرے آستاں سے گئے
ہم نے جانا کہ دو جہاں سے گئے
تیرے کُوچے میں نقشِ پا کی طرح
ایسے بیٹھے کہ پھر نہ واں سے گئے
شمع کی طرح رفتہ رفتہ ہم
ایسے گزرے کہ جسم و جاں سے گئے
جس دن سے یار مجھ سے وہ شوخ آشنا ہُوا
رُسوا ہوا،۔ خراب ہوا،۔ مُبتلا ہوا
پہلے تو با وفا مجھے دِکھلایا آپ کو
جب دل کو لے چکا تو یہ کچھ بے وفا ہوا
افسوس کیوں کرے ہے ہمیں قتل کر کے تُو
ہم سا جو ایک مر گیا پیارے! تو کیا ہوا
مِرے دل کو زلفوں کی زنجیر کیجو
یہ دیوانہ اپنا ہے تدبیر کیجو
ہمیں قتل ہے یا ہے اب قید ظالم
جو کچھ تجھ سے ہووے نہ تقصیر کیجو
مِرے دل نے زلفوں میں مسکن کیا ہے
یہ مہمان ہے، آئے توقیر کیجو
اس ادا سے مجھے سلام کیا
ایک ہی آن میں غلام کیا
لے گیا ننگ و نام اب مجھ سے
عشق نے آخر اپنا کام کیا
یارو اس گلبدن کے تئیں ہم نے
کل صبا سے یہی پیام کیا
دل دیا، جی دیا، خفا نہ کیا
بیوفا تجھ سے میں نے کیا نہ کیا
غم دوری کو تیری دیکھ کے یار
آج تک جان سے جدا نہ کیا
فائدہ کیا ہے اب بگڑنے کا
کون تھا جس سے تو ملا نہ کیا
ہم نے قصہ بہت کہا دل کا
نہ سنا تم نے ماجرا دل کا
اپنے مطلب کی سب ہی کہتے ہیں
ہے نہیں کوئی آشنا دل کا
عشق میں ایسی کھینچی رسوائی
ہو گیا شور جا بجا دل کا