Showing posts with label مصور فیروزپوری. Show all posts
Showing posts with label مصور فیروزپوری. Show all posts

Wednesday, 17 November 2021

اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا

 اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا

دوسرا کوئی بچھڑنے کا بہانہ بھی نہ تھا

کاغذی ناؤ میں سامان مِرا لاکھوں کا

اور دریا کے سوا کوئی ٹھکانا بھی نہ تھا

کاٹ کر پیڑ مکاں اپنا بنانا تھا، مگر

ان پرندوں کے مکانوں کو گرانا بھی نہ تھا

Saturday, 30 October 2021

میں تم کو سوچ رہا ہوں مگر اداس نہیں

 میں تم کو سوچ رہا ہوں مگر اداس نہیں

تُو آبشارِ سکوں ہے، بدن کی پیاس نہیں

بِنا چُھوئے ہی مِرے خواب چُوم لیتا ہو

بہت قریب ہو حالانکہ میرے پاس نہیں

خزاں کی رُت میں بھی خوشبو سنبھال رکھی ہے

میں تم سے دور ہوا ہوں، مگر اداس نہیں

Thursday, 28 October 2021

بڑھا کے ہاتھ زمیں سے اٹھا لیا جائے

 بڑھا کے ہاتھ زمیں سے اٹھا لیا جائے

جو بچ گیا ہے اسی کو بچا لیا جائے

انا کی جنگ نے برباد کر دئیے رشتے

اگرچہ عشق ہے تو سر جھکا لیا جائے

ہمارے دل پہ کبھی آپ کی حکومت تھی

تو کیوں نہ آپ سے ہی مشورہ لیا جائے

Saturday, 13 February 2021

دل کے سکوں کے واسطے بھٹکے کہاں کہاں

 دل کے سکوں کے واسطے بھٹکے کہاں کہاں

ٹوٹے ہزار مرتبہ،۔ بکھرے کہاں کہاں

آخر تو بہہ گیا مِری آنکھوں سے زار زار

اشکوں کا آبشار ہے سمٹے کہاں کہاں

جب حادثے ہی حادثے اپنا نصیب ہیں

کس کس پہ روئے آنکھ یہ برسے کہاں کہاں

Sunday, 15 November 2020

اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے

 اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے

ٹوٹی ہوئی کشتی ہے ٹھہرا ہوا پانی ہے

اک پھول کتابوں میں دم توڑ گیا لیکن

کچھ یاد نہیں آتا یہ کس کی نشانی ہے

بکھرے ہوئے پنوں سے یادیں سی جھلکتی ہیں

کچھ تیری کہانی ہے، کچھ میری کہانی ہے