اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا
دوسرا کوئی بچھڑنے کا بہانہ بھی نہ تھا
کاغذی ناؤ میں سامان مِرا لاکھوں کا
اور دریا کے سوا کوئی ٹھکانا بھی نہ تھا
کاٹ کر پیڑ مکاں اپنا بنانا تھا، مگر
ان پرندوں کے مکانوں کو گرانا بھی نہ تھا
اک تو وعدہ کہ تمہیں چھوڑ کے جانا بھی نہ تھا
دوسرا کوئی بچھڑنے کا بہانہ بھی نہ تھا
کاغذی ناؤ میں سامان مِرا لاکھوں کا
اور دریا کے سوا کوئی ٹھکانا بھی نہ تھا
کاٹ کر پیڑ مکاں اپنا بنانا تھا، مگر
ان پرندوں کے مکانوں کو گرانا بھی نہ تھا
میں تم کو سوچ رہا ہوں مگر اداس نہیں
تُو آبشارِ سکوں ہے، بدن کی پیاس نہیں
بِنا چُھوئے ہی مِرے خواب چُوم لیتا ہو
بہت قریب ہو حالانکہ میرے پاس نہیں
خزاں کی رُت میں بھی خوشبو سنبھال رکھی ہے
میں تم سے دور ہوا ہوں، مگر اداس نہیں
بڑھا کے ہاتھ زمیں سے اٹھا لیا جائے
جو بچ گیا ہے اسی کو بچا لیا جائے
انا کی جنگ نے برباد کر دئیے رشتے
اگرچہ عشق ہے تو سر جھکا لیا جائے
ہمارے دل پہ کبھی آپ کی حکومت تھی
تو کیوں نہ آپ سے ہی مشورہ لیا جائے
دل کے سکوں کے واسطے بھٹکے کہاں کہاں
ٹوٹے ہزار مرتبہ،۔ بکھرے کہاں کہاں
آخر تو بہہ گیا مِری آنکھوں سے زار زار
اشکوں کا آبشار ہے سمٹے کہاں کہاں
جب حادثے ہی حادثے اپنا نصیب ہیں
کس کس پہ روئے آنکھ یہ برسے کہاں کہاں
اپنی تو محبت کی اتنی سی کہانی ہے
ٹوٹی ہوئی کشتی ہے ٹھہرا ہوا پانی ہے
اک پھول کتابوں میں دم توڑ گیا لیکن
کچھ یاد نہیں آتا یہ کس کی نشانی ہے
بکھرے ہوئے پنوں سے یادیں سی جھلکتی ہیں
کچھ تیری کہانی ہے، کچھ میری کہانی ہے