ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سُو
پر سمیٹے ہوئے بیٹھی ہے چمن میں خوشبو
یہ اندھیرے بھی ہمارے لیے آئینہ ہیں
رو برو کرتے ہیں کردار کے کتنے پہلو
ان سلگتے ہوئے لمحوں سے یہ ملتا ہے سراغ
دم بہ دم ٹوٹ رہا ہے شب غم کا جادو
ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سُو
پر سمیٹے ہوئے بیٹھی ہے چمن میں خوشبو
یہ اندھیرے بھی ہمارے لیے آئینہ ہیں
رو برو کرتے ہیں کردار کے کتنے پہلو
ان سلگتے ہوئے لمحوں سے یہ ملتا ہے سراغ
دم بہ دم ٹوٹ رہا ہے شب غم کا جادو
جب سے ہے بادِ خزاں صرصرِ غم آوارہ
خشک پتوں کی طرح رہتے ہیں ہم، آوارہ
کچھ تو ہے بات کہ ہے موسمِ گل کے با وصف
بوئے گل، بوئے صبا، بوئے صنم، آوارہ
کنج در کنج ستم خوردہ غزالوں کو ابھی
تا بہ کے، رکھے گی یہ لذتِ رم آوارہ
کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے
گم گشتہ اپنی ذات کے اندر ملا مجھے
کس پیار سے گیا تھا تِری آستیں کے پاس
شاخِ حنا کی چاہ میں خنجر ملا مجھے
اس ظلمتِ حیات میں اک لفظ پیار کا
جب مل گیا تو ماہِ منور ملا مجھے
خالی ہاتھ سوالی چہرے
ہم بھی ہیں اس شہر کے باسی
جس نے لاکھوں ہاتھوں میں کشکول دیا ہے
کل تک تھا یہ اپناعالم
راہ میں وا ہاتھوں میں جب تک
اک اک چونّی رکھ نہیں دیتے دل کو چین نہیں آتا تھا
پیچ و خم وقت نے سو طرح اُبھارے لوگو
کاکل زیست مگر ہم نے سنوارے لوگو
اپنے سائے سے تمہیں آپ ہے دہشتزدگی
تم ہو کس مصلحت وقت کے مارے لوگو
ہمسفر کس کو کہیں کس کو سنائیں غم دل
پنبہ در گوش ہوئے سارے سہارے لوگو
دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے
یا انہیں جو آپ اپنی روشنی میں جل بجھے
حسن ہو جاتا ہے جس لمحے ضرورت کا اسیر
ایک ہو جاتے ہیں اس دم خیر و شر کے دائرے
سب ہوا کے رخ پر اڑتے برگ کے ہیں ہمنوا
کون لے اس کی خبر رہتا ہے جو پتھر تلے
رُت بدلے تو آپ بدل لے، سب بیوہار ہوا
پگ پگ سانگ رچائے موسم کے انوسار ہوا
اس کی گرہیں کھولے بڑھ کر کوئی دھیان کی لہر
من میں لیے پھرتی ہے صدیوں کے اسرار ہوا
اس ویرانے میں بھی کھلتے پگ پگ رم کے پھول
دل سے کبھی ہو کر بھی گزرتی خوش رفتار ہوا
دیارِ جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا
کہ دل میں درد لبوں پر رواں ترانہ رہا
کسی پہ برق گِری شاخِ جاں سُلگ اُٹھی
کسی پہ سنگ چلے سر مِرا نشانہ رہا
قدم قدم پہ ملی گرچہ صرصرِ خونریز
ہجومِ گُل اسی انداز سے روانہ رہا