Showing posts with label ادیب سہیل. Show all posts
Showing posts with label ادیب سہیل. Show all posts

Monday, 4 April 2022

ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سو

 ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سُو

پر سمیٹے ہوئے بیٹھی ہے چمن میں خوشبو

یہ اندھیرے بھی ہمارے لیے آئینہ ہیں

رو برو کرتے ہیں کردار کے کتنے پہلو

ان سلگتے ہوئے لمحوں سے یہ ملتا ہے سراغ

دم بہ دم ٹوٹ رہا ہے شب غم کا جادو

Saturday, 12 March 2022

جب سے ہے باد خزاں صرصر غم آوارہ

 جب سے ہے بادِ خزاں صرصرِ غم آوارہ

خشک پتوں کی طرح رہتے ہیں ہم، آوارہ

کچھ تو ہے بات کہ ہے موسمِ گل کے با وصف

بوئے گل، بوئے صبا، بوئے صنم، آوارہ

کنج در کنج ستم خوردہ غزالوں کو ابھی

تا بہ کے، رکھے گی یہ لذتِ رم آوارہ

Tuesday, 1 February 2022

کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے

 کیا دور ہے کہ جو بھی سخنور ملا مجھے

گم گشتہ اپنی ذات کے اندر ملا مجھے

کس پیار سے گیا تھا تِری آستیں کے پاس

شاخِ حنا کی چاہ میں خنجر ملا مجھے

اس ظلمتِ حیات میں اک لفظ پیار کا

جب مل گیا تو ماہِ منور ملا مجھے

Saturday, 15 January 2022

خالی ہاتھ سوالی چہرے

 خالی ہاتھ سوالی چہرے


ہم بھی ہیں اس شہر کے باسی

جس نے لاکھوں ہاتھوں میں کشکول دیا ہے

کل تک تھا یہ اپناعالم

راہ میں وا ہاتھوں میں جب تک

اک اک چونّی رکھ نہیں دیتے دل کو چین نہیں آتا تھا

Saturday, 8 January 2022

پیچ و خم وقت نے سو طرح ابھارے لوگو

 پیچ و خم وقت نے سو طرح اُبھارے لوگو

کاکل زیست مگر ہم نے سنوارے لوگو

اپنے سائے سے تمہیں آپ ہے دہشتزدگی

تم ہو کس مصلحت وقت کے مارے لوگو

ہمسفر کس کو کہیں کس کو سنائیں غم دل

پنبہ در گوش ہوئے سارے سہارے لوگو

Friday, 7 January 2022

دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے

 دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے

یا انہیں جو آپ اپنی روشنی میں جل بجھے

حسن ہو جاتا ہے جس لمحے ضرورت کا اسیر

ایک ہو جاتے ہیں اس دم خیر و شر کے دائرے

سب ہوا کے رخ پر اڑتے برگ کے ہیں ہمنوا

کون لے اس کی خبر رہتا ہے جو پتھر تلے

Thursday, 1 July 2021

رت بدلے تو آپ بدل لے سب بیوہار ہوا

 رُت بدلے تو آپ بدل لے، سب بیوہار ہوا

پگ پگ سانگ رچائے موسم کے انوسار ہوا

اس کی گرہیں کھولے بڑھ کر کوئی دھیان کی لہر

من میں لیے پھرتی ہے صدیوں کے اسرار ہوا

اس ویرانے میں بھی کھلتے پگ پگ رم کے پھول

دل سے کبھی ہو کر بھی گزرتی خوش رفتار ہوا

Thursday, 1 April 2021

دیار جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا

 دیارِ جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا

کہ دل میں درد لبوں پر رواں ترانہ رہا

کسی پہ برق گِری شاخِ جاں سُلگ اُٹھی

کسی پہ سنگ چلے سر مِرا نشانہ رہا

قدم قدم پہ ملی گرچہ صرصرِ‌ خونریز

ہجومِ گُل اسی انداز سے روانہ رہا