Monday, 4 April 2022

ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سو

 ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سُو

پر سمیٹے ہوئے بیٹھی ہے چمن میں خوشبو

یہ اندھیرے بھی ہمارے لیے آئینہ ہیں

رو برو کرتے ہیں کردار کے کتنے پہلو

ان سلگتے ہوئے لمحوں سے یہ ملتا ہے سراغ

دم بہ دم ٹوٹ رہا ہے شب غم کا جادو

دام‌ بردار کوئی دشت وفا سے گزرا

صورت خواب ہوا حسن خرام آہو

پھر ہوا حبس کا احساس‌ گرانبار سہیل

پھر مرا دل ہے طلبگار‌ ہوائے گیسو


ادیب سہیل

No comments:

Post a Comment