کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا
بے کار آنسوؤں کو بھی جانے نہیں دیا
میں نے نکل کے خود سے بنایا تجھے خدا
تو نے عقیدتوں کو نبھانے نہیں دیا
کچھ دان مانگ لیتا مگر رات دل نے بھی
سوئی ہوئی پری کو جگانے نہیں دیا
کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا
بے کار آنسوؤں کو بھی جانے نہیں دیا
میں نے نکل کے خود سے بنایا تجھے خدا
تو نے عقیدتوں کو نبھانے نہیں دیا
کچھ دان مانگ لیتا مگر رات دل نے بھی
سوئی ہوئی پری کو جگانے نہیں دیا
فصیل ذات پر اترا رہا ہوں
زمانے سے بچھڑتا جا رہا ہوں
میں پتھر کے نئے پیکر بنا کر
بہ شکل موم ڈھلتا جا رہا ہوں
وہ اک چہرہ وہ پلکیں اور تبسم
غزل کو اس کی لے پہ گا رہا ہوں
بے تابی
کبھی کبھی اکثر
تمہاری یاد کا پہلو
بڑا بے چین کرتا ہے
سکوں مجھ کو نہیں آتا
تمہاری یاد آتی ہے
ذرا رنجور کرتی ہے