Showing posts with label اسلم نور. Show all posts
Showing posts with label اسلم نور. Show all posts

Monday, 13 July 2026

خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

 خموشیوں میں بہت سے سوال لایا ہے

شکایتوں کے لیے رخ نکال لایا ہے

یہ کہہ کے اس نے مجھے حیرتوں میں ڈال دیا

وہ میرے بیتے ہوئے ماہ و سال لایا ہے

ذرا سی دیر میں صدیوں کا بن گیا ضامن

یہ کس مزاج کا حرف کمال لایا ہے

Sunday, 13 July 2025

کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا

 کرب جدائی آنکھوں میں آنے نہیں دیا

بے کار آنسوؤں کو بھی جانے نہیں دیا

میں نے نکل کے خود سے بنایا تجھے خدا

تو نے عقیدتوں کو نبھانے نہیں دیا

کچھ دان مانگ لیتا مگر رات دل نے بھی

سوئی ہوئی پری کو جگانے نہیں دیا

Thursday, 12 December 2024

فصیل ذات پر اترا رہا ہوں

 فصیل ذات پر اترا رہا ہوں

زمانے سے بچھڑتا جا رہا ہوں

میں پتھر کے نئے پیکر بنا کر

بہ شکل موم ڈھلتا جا رہا ہوں

وہ اک چہرہ وہ پلکیں اور تبسم

غزل کو اس کی لے پہ گا رہا ہوں

Tuesday, 26 November 2024

بے تابی مجھے تم یاد آتے ہو

 بے تابی


کبھی کبھی اکثر

تمہاری یاد کا پہلو

بڑا بے چین کرتا ہے

سکوں مجھ کو نہیں آتا

تمہاری یاد آتی ہے

ذرا رنجور کرتی ہے