Showing posts with label اجمل سروش. Show all posts
Showing posts with label اجمل سروش. Show all posts

Thursday, 8 September 2022

فضا میں موجودگی ترے رنگ کی نہیں ہے

 فضا میں موجودگی تِرے رنگ کی نہیں ہے

کسی بھی منظر میں اس لیے دلکشی نہیں ہے

پڑا ہوا ہوں نئی محبت کے بازوؤں میں

بہل گئی ہے مِری طبیعت لگی نہیں ہے

تمہیں میں آواز دوں تو آنا شراب لانا

کسی بھی شے کی مجھے ضرورت ابھی نہیں ہے

Thursday, 11 August 2022

دل و نظر سے کارواں ہنسی خوشی جدا کیے

 دل و نظر سے کارواں ہنسی خوشی جدا کِیے

جنہیں بُھلانا چاہیے تھا، لوگ وہ بُھلا دئیے

نہ مصلحت شعار بن نہ بُزدلوں میں ہو شمار

ہوا کا رُخ نہ دیکھ تُو، نہ خوف سے جلا دِیے

فروخت کل بھی کب کیے گلاب و یاسمن کے پھول

یقین کر کہ آج بھی تِرے لیے بچا لیے

Thursday, 4 August 2022

عجب ہے صورت حالات فی امان اللہ

 عجب ہے صورتِ حالات فی امان اللہ

کٹھن ہوئی گزر اوقات، فی امان اللہ

گزر رہا ہے گلی سے وہ خوفناک آسیب

لرز رہے ہیں مکانات، فی امان اللہ

تمام شہر کے رونق کدے ہوئے ویران

ہیں سوگوار مضافات، فی امان اللہ

Wednesday, 3 August 2022

اپنی وسعت سے کہیں دور سمٹ جاتا ہوں

 اپنی وسعت سے کہیں دُور سمٹ جاتا ہوں

میں تِری راہ کا پتھر ہوں تو ہٹ جاتا ہوں

بیٹھا رہتا ہوں میں سہما ہوا گم صم اور پھر

اپنی تنہائی سے خود آپ لپٹ جاتا ہوں

عجب آہستہ روی پر ہے مِرا پائے رواں

تیز چلتا ہوں تو رفتار سے گھٹ جاتا ہوں

Tuesday, 8 February 2022

ہوس کا کوئی نشاں قریۂ ہوس میں نہیں

 ہوس کا کوئی نشاں قریۂ ہوس میں نہیں

لہو رگوں میں نہیں اور دم نفس میں نہیں

یہی ہیں نقلِ مکانی کے دو مقام اُس کے

شجر پہ ہو گا پرندہ اگر قفس میں نہیں

میں پڑھ چکا ہوں سب اگلے جنم کا کیلنڈر

تمہارا قرب میسر کسی برس میں نہیں