فضا میں موجودگی تِرے رنگ کی نہیں ہے
کسی بھی منظر میں اس لیے دلکشی نہیں ہے
پڑا ہوا ہوں نئی محبت کے بازوؤں میں
بہل گئی ہے مِری طبیعت لگی نہیں ہے
تمہیں میں آواز دوں تو آنا شراب لانا
کسی بھی شے کی مجھے ضرورت ابھی نہیں ہے
فضا میں موجودگی تِرے رنگ کی نہیں ہے
کسی بھی منظر میں اس لیے دلکشی نہیں ہے
پڑا ہوا ہوں نئی محبت کے بازوؤں میں
بہل گئی ہے مِری طبیعت لگی نہیں ہے
تمہیں میں آواز دوں تو آنا شراب لانا
کسی بھی شے کی مجھے ضرورت ابھی نہیں ہے
دل و نظر سے کارواں ہنسی خوشی جدا کِیے
جنہیں بُھلانا چاہیے تھا، لوگ وہ بُھلا دئیے
نہ مصلحت شعار بن نہ بُزدلوں میں ہو شمار
ہوا کا رُخ نہ دیکھ تُو، نہ خوف سے جلا دِیے
فروخت کل بھی کب کیے گلاب و یاسمن کے پھول
یقین کر کہ آج بھی تِرے لیے بچا لیے
عجب ہے صورتِ حالات فی امان اللہ
کٹھن ہوئی گزر اوقات، فی امان اللہ
گزر رہا ہے گلی سے وہ خوفناک آسیب
لرز رہے ہیں مکانات، فی امان اللہ
تمام شہر کے رونق کدے ہوئے ویران
ہیں سوگوار مضافات، فی امان اللہ
اپنی وسعت سے کہیں دُور سمٹ جاتا ہوں
میں تِری راہ کا پتھر ہوں تو ہٹ جاتا ہوں
بیٹھا رہتا ہوں میں سہما ہوا گم صم اور پھر
اپنی تنہائی سے خود آپ لپٹ جاتا ہوں
عجب آہستہ روی پر ہے مِرا پائے رواں
تیز چلتا ہوں تو رفتار سے گھٹ جاتا ہوں
ہوس کا کوئی نشاں قریۂ ہوس میں نہیں
لہو رگوں میں نہیں اور دم نفس میں نہیں
یہی ہیں نقلِ مکانی کے دو مقام اُس کے
شجر پہ ہو گا پرندہ اگر قفس میں نہیں
میں پڑھ چکا ہوں سب اگلے جنم کا کیلنڈر
تمہارا قرب میسر کسی برس میں نہیں