Monday, 13 July 2026

ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی

 ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی

پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی

بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں

بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی

بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے

ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی

کہہ دیا تھا حالِ دل میں نے امیرِ شہر سے

اس خطا پر مجھ سے ہے میری انا روٹھی ہوئی

راستوں کی بھیڑ میں کھویا ہوا ہوں آج بھی

منزلِ مقصود ہے مجھ سے رہنما روٹھی ہوئی

شاخِ گل سے چلتی ہے بچ بچ کے عالم دیکھیے

آج تو پھولوں سے ہے بادِ صبا روٹھی ہوئی


اشتیاق عالم کمالوی

No comments:

Post a Comment