ہے یہاں تو زندگانی کی فضا روٹھی ہوئی
پیار بھی روٹھا ہوا ہے اور وفا روٹھی ہوئی
بے حیائی کے قصیدے پڑھ رہی ہیں تتلیاں
بر سرِ گلشن ہے آنکھوں کی حیا روٹھی ہوئی
بد سلوکی کر رہے ہیں بچے اب ماں باپ سے
ہے دعا سے یوں بھی تاثیرِ وفا روٹھی ہوئی
کہہ دیا تھا حالِ دل میں نے امیرِ شہر سے
اس خطا پر مجھ سے ہے میری انا روٹھی ہوئی
راستوں کی بھیڑ میں کھویا ہوا ہوں آج بھی
منزلِ مقصود ہے مجھ سے رہنما روٹھی ہوئی
شاخِ گل سے چلتی ہے بچ بچ کے عالم دیکھیے
آج تو پھولوں سے ہے بادِ صبا روٹھی ہوئی
اشتیاق عالم کمالوی
No comments:
Post a Comment