جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے
اعمال کا معیار اگر خام نہیں ہے
دولت سے ہر اک چیز میسر نہیں ہوتی
ظالم کو کسی حال میں آرام نہیں ہے
ہوتے ہیں یہاں جس کے اشارے پہ تماشے
مجرم کے شمارے میں وہی نام نہیں ہے
حیران ہیں کچھ گندی سیاست کے پُجاری
کیا بات ہے کیوں ملک میں کُہرام نہیں ہے
ہر موڑ پہ ہر شکل میں راون ہی ملے گا
کُرسی پہ عدالت کی اگر رام نہیں ہے
جذبات بیابان میں لے آئے ہیں، لیکن
اے عشق! یہی آخری انجام نہیں ہے
میخانے امیروں کے لیے ہیں سبھی افضل
مُفلس کے لیے کوئی کہیں جام نہیں ہے
افضل لہرپوری
No comments:
Post a Comment