Thursday, 9 July 2026

جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے

 جو چاہیے وہ کس لیے اکرام نہیں ہے

اعمال کا معیار اگر خام نہیں ہے

دولت سے ہر اک چیز میسر نہیں ہوتی

ظالم کو کسی حال میں آرام نہیں ہے

ہوتے ہیں یہاں جس کے اشارے پہ تماشے

مجرم کے شمارے میں وہی نام نہیں ہے

حیران ہیں کچھ گندی سیاست کے پُجاری

کیا بات ہے کیوں ملک میں کُہرام نہیں ہے

ہر موڑ پہ ہر شکل میں راون ہی ملے گا

کُرسی پہ عدالت کی اگر رام نہیں ہے

جذبات بیابان میں لے آئے ہیں، لیکن

اے عشق! یہی آخری انجام نہیں ہے

میخانے امیروں کے لیے ہیں سبھی افضل

مُفلس کے لیے کوئی کہیں جام نہیں ہے


افضل لہرپوری

No comments:

Post a Comment