کبھی ہلکا، کبھی گہرا ہماری آنکھ کا کاجل
ہمارے غم سے وابستہ ہماری آنکھ کا کاجل
ہمارے سُرخ ہونٹوں کے تلے ہے اک طلسمی تِل
پھر اس پر کالے جادُو سا ہماری آنکھ کا کاجل
غزل میں بات ہوتی ہے غزال آنکھوں کے سُرمے کی
کوئی پھر کیوں نہیں لِکھتا ہماری آنکھ کا کاجل
بتاؤ کب تلک رستہ تکے پلکوں کی چوکھٹ پر
تمہاری دِید کا پیاسا ہماری آنکھ کا کاجل
تمہارے بعد ہر منظر نظر سے دُور رکھنا تھا
کشاکش میں بہت بکھرا ہماری آنکھ کا کاجل
ہمیں تو تھا یقیں تم دُکھ سمجھ لو گے ان آنکھوں کا
مگر تم نے فقط دیکھا ہماری آنکھ کا کاجل
محبت، ہجر، خلوت، درد، لاچاری، تڑپ، آنسو
ہے شاہد سب کا اکلوتا ہماری آنکھ کا کاجل
وبھا جین خواب
No comments:
Post a Comment